1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

اولاد کو عاق کرنے کا حکم

سوال

مفتی صاحب ! کیا کوئی شخص اپنے نافرمان بیٹے کو اپنی میراث سے عاق کر سکتا ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی باپ اپنی اولاد میں سے کسی کو اپنی جائیداد سے عاق کردے، تو بھی اس شخص کی وفات کے بعد اس بیٹا یا بیٹی کو اپنے باپ کی میراث میں سے حصہ ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مشكاة المصابيح:(266/1، باب الوصایا، ط: قدیمی)
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ‘‘.

رد المحتار :(کتاب الدعوی، باب التحالف، فصل في دفع الدعاوی، 7/ 505، ط: سعید)
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی



ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :9143


فتوی پرنٹ