1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. ممنوع اور مباح چیز یں

فیس تاخیر سے جمع کرانے کی صورت میں مالی جرمانہ لینے کا حکم

سوال

السلام علیکم حضرت! آج کل تعلیمی اداروں میں وقت مقررہ پر فیس ادا نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جس کا اصل مقصد وقت مقررہ پر فیس کی وصولی ہوتا ہے، نہ کہ مالی فائدہ، کیونکہ اساتذہ وغیرہ کی تنخواہ کا انحصار اسی آمدنی پر ہوتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا نجی تعلیمی ادارے اس جرمانے کے لگانے کے مجاز ہیں یا نہیں؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیجئے۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب

واضح رہے کہ مالی جرمانہ کسی سے لینا جائز نہیں ہے، لہذا طلبہ کی مختلف خلاف ورزیوں کی بنا پر تعلیمی اداروں کا ان سے مالی جرمانہ جمع کرنا جائز نہیں ہے۔

جن طلبہ سے مالی جرمانہ لیا گیا ہو، وہ ان کو واپس کرنا یا ان پیسوں کو بالغ طلبہ سے بذاتِ خود اور نابالغ طلبہ کے سرپرستوں سے معاف کرانا ضروری ہے، اور جب تک طلبہ کو ان کے پیسے نہ دئیے جائیں، یا ان سے مذکورہ طریقے پر معاف نہ کرائے جائیں، اس وقت تک ان پیسوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الحدود، باب التعزیر، 61/4، ط : سعید)
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اه. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اه ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان۔

البحر الرائق: (کتاب الحدود، فصل في التعزير، 44/5، ط: دار الكتاب الإسلامي)
أفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ . والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال۔

الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الصلوٰۃ، قبیل باب الاذان، 379/1، ط: سعید)
وكذا تكره في أماكن كفوق كعبة وفي طريق ومزبلة ومجزرة ....وأرض مغصوبة أو للغير لو مزروعة أو مكروبة وصحراء فلا سترة لمار.
(قوله: وأرض مغصوبة أو للغير) لا حاجة إلى قوله أو للغير إذ الغصب يستلزمه، اللهم إلا أن يراد الصلاة بغير الإذن وإن كان غير غاصب، أفاده أبو السعود ط.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی



ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :9139


فتوی پرنٹ