1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. تجارت و معاملات

کمیشن ایجنٹ/ ریسلیر (Reseller) کے طور پر کسی کا مال آگے فروخت کرنا

سوال

ریسرچ تھیسز رائٹنگ میں کچھ سافٹویئر مثلاً Grammerly quillbot turnitin وغیرہ کام آتے ہیں، ایک آدمی ان کو سیل کرتا ہے، کیا میں ریسیلر بن سکتا ہوں، جبکہ مقررہ مدت تک سروس پرووائڈ کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے، مجھے ہر کسٹمر کے سافٹ ویئر کے حساب سے کمیشن ملتا ہے اور جو اصل سیلر ہے، وہ مقررہ مدت تک کسٹمر کو سافٹ ویئر ذمہ داری سے دیتا ہے؟

جواب

کسی کا مال کمیشن ایجنٹ کے طور پر طے شدہ کمیشن کے عوض آگے فروخت کرنا شرعا درست ہے، بشرطیکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع الشامیة: (مطلب فِي أجرة الدلال ٦/ ٦٣، ط: سعيد)
قَالَ فِي التتارخانية: وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ ... وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِالسِّمْسَارِ؟ فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا؛ لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ، وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی



ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :9119


فتوی پرنٹ