1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

مسجد میں نمازی کے آگے سے گزرنے میں بڑی مسجد اور چھوٹی مسجد کے رقبہ کی تحدید

سوال

نمازی کے سامنے کسی حائل یا سترہ کے بغیر گزرنے والا گناہ گار ہوتا ہے، البتہ اگر مسجد بڑی ہو، یعنی: کم از کم 60/ گز لمبی ہو یا میدان ہو، تو خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے کی نظر جہاں تک جاسکتی ہے، اس کے بعد سے گزرنا جائز ہے، اور آسانی وسہولت کے لیے اس کا اندازہ سجدہ کی جگہ سے دو تین صف تک کیا گیا ہے، لہذا بڑی مسجد یا میدان میں تین صف (12/ فٹ) کے بعد نمازی کے آگے سے گزرنے کی اجازت ہے۔“
مفتی صاحب! اس فتوی کی مزید رہنمائی فرمائیں کہ بڑی مسجد اور چھوٹی مسجد کی پیمائش کا کیا پیمانہ ہونا چاہیے؟ ہمارے ہاں مساجد عموما 1000 گز کے پلاٹ سے لے کر 240 گز اور کہیں اس سے بھی چھوٹی ہوتی ہے۔

جواب

بڑی مسجد سے مراد وہ مسجد ہے، جو چالیس گز (شرعی) لمبی اور چالیس گز چوڑی یا انگریزی ساٹھ فٹ لمبی اور ساٹھ فٹ چوڑی ہو یا اس سے بڑی ہو، اور جو اس سے کم ہوگی، وہ چھوٹی مسجد کہلائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: (ص: 342، ط: دار الكتب العلمية)
والمکروہ المرور بمحل السجود علی الأصح في المسجد الکبیر والصحراء والصغیر مطلقاً۔ وفي الطحطاوي: ہو أن یکون أربعین فأکثر، وقیل: ستین فأکثر، والصغیر بعکسہ۔

فتاوی عثمانی: (427/1، ط: معارف القرآن)

فتاوی دارالعلوم کراتشی، امداد السائلین: (155/2، ط: ادارۃ المعارف)

کذا فی فتاویٰ بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144204201069

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی



ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :9436


فتوی پرنٹ