1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

مرد کا بلا عذر گھر میں نماز پڑھنا

سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب! مرد حضرات کا بنا کسی عذر کے گھر میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اگر جائز نہیں، تو کن اعذار کی بناء پر گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی، اس حوالے سے اگر کوئی حدیث موجود ہو، تو براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب

مردوں کے لیے جماعت سے نماز پڑھنا ایسی سنتِ مؤکدہ ہے، جو حکم کے اعتبار سے واجب کے قریب ہے، اور مسجد میں جماعت کا اہتمام واجبِ کفایہ ہے۔
بلا عذر گھر میں نماز پڑھنے والوں سے متعلق شدید وعید ارشاد فرمائی ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک میرے دل میں یہ ارادہ ہوا کہ کسی کو حکم دوں کہ لکڑیاں جمع کرے، پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کے گھروں پر جاؤں، جو جماعت میں نہیں آتے اور ان کے گھروں کو جلادوں۔"
لہذا مرد کے لیے بلا عذر گھر میں نماز پڑھنے کا معمول بنا لینا گناہ ہے، البتہ اگر کبھی عذر (بیماری، سفر، سخت بارش وغیرہ) کی وجہ سے جماعت رہ جائے، تو گھر میں پڑھنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (131/1، ط: دار طوق النجاۃ)
عن نافع، عن عبد الله بن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة»

صحیح مسلم: (453/1، ط: دار احیاء الکتب العلمیة)
عن ابی الاحوص قال: قال عبداللہ لقد رایتنا وما یتخلف عن الصلاة الا منافق قد علم نفاقہ او مریض ان کان المریض لیمشی بین رجلین حتی یاتی الصلاة. وقال: ان رسول اللہ صلی الله عليه وسلم علَّمَنا سنن الھدی وان من سنن الھدی الصلاۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ.

و فیه ایضاً: (453/1، ط: دار احیاء الکتب العلمیة)
حدثنا ابوہریرة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال رسول اللہ صلی الله عليه وسلم لقد ہممت أن آمر فتیاني ان یستعدوا لی بحزم من حطب ثم آمر رجلا یصلی بالناس ثم تحرق بیوت علی من فیھا.

الدر المختار: (554/1، ط: دار الفکر)
(فتسن او تجب) ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکھا مرۃ (الجماعۃ) علی الرجال العقلاء البالغین الاحرار القادرین علی الصلوٰۃ بالجماعۃ من غیر حرج.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی



ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :9432


فتوی پرنٹ