وقتاً فوقتاً احتیاطاً تجدید نکاح کا حکم

سوال کا متن:

میرا نام محمد رفیق ہے، میں ڈیرہ غازی خان سے ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ تجدید نکاح کے بارے میں ہے سنا ہے کہ ہر سال نکاح کی تجدید کرنی چاہیے، اگر کوئی ہر سال نکاح کی تجدید نہیں کرتا تو ہو سکتا ہے کہ آپ سے کوئی کفریہ کلمہ صادر ہوا ہے اور اس سے آپ کا نکاح فاسد ہوگیا ہو، لہذا تجدید نکاح کرنا چاہیے۔کیا یہ بات درست ہے؟ اس بارے میں رہنمائی فرمادیں۔

جواب کا متن:

اس معاملہ میں وہم اور شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ‏احتیاطاً نکاح کی تجدید کا حکم ہر شخص کے لئے نہیں ہے، نیز اس پر عمل کرنا کسی پر بھی لازم اور ضروری نہیں ہے، بلکہ یہ ‏مستحب حکم صرف اس شخص کے لئے ہے جو زبان پر کفریہ کلمات لانے میں احتیاط نہیں کرتا ہے، لہذا فقہاء کرامؒ نے ایسے شخص کو روزانہ تجدید ایمان اور مہینے میں ایک یا دوبار تجدید نکاح کا ‏مشورہ دیا ہے، جس کی زبان سے لاپرواہی اور لاعلمی میں ایسے الفاظ نکلتے رہتے ہیں جو کفر کے زمرے میں آتےہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (42/1، ط: دار الفکر)‏

والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في ‏كل شهر مرة أو مرتين، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير.‏

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :10655