اجتماعی قربانی میں کئی جانوروں کا گوشت مخلوط (Mix) کرکے تقسیم کرنے کا حکم

سوال کا متن:

کیا اجتماعی قربانی میں بڑے پانچ جانوروں کے 35 حصوں کا گوشت ایک ساتھ مخلوط (Mix) کر کے برابر تقسیم کر سکتے ہیں؟

جواب کا متن:

پوچھی گئی صورت میں پانچ بڑے جانوروں کے پینتیس حصوں کا گوشت ایک ساتھ مخلوط (Mix) کرکے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ ہر جانور کے متعین حصہ دار اپنے اپنے حصہ کے مالک ہوتے ہیں، اور مالک کی اجازت کے بغیر اس کا گوشت کسی اور کو دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
نیز کمی بیشی کی صورت میں سود لازم آنے کے امکان کے ساتھ ساتھ ناانصافی کا یہ احتمال بھی رہتا ہے کہ ایک شخص کے حصے میں صرف اعلی درجے کا گوشت چلا جائے، جبکہ کسی اور کے حصے میں صرف ادنی درجے کا گوشت چلا جائے، لہذا اجتماعی قربانی کے نظم کرنے والوں پر لازم ہے کہ ہر جانور کا گوشت اس کے متعین حصہ داروں کے درمیان وزن کرکے برابر تقسیم کریں۔کئی جانوروں کا گوشت مخلوط (Mix) کرکے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: ( النساء، الایة: 135)
یَٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّ ٰ⁠مِینَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَاۤءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰۤ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَ ٰ⁠لِدَیۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِینَۚ ... الخ

الدر المختار مع رد المحتار: (317/6، ط: دار الفكر)
ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه.
(قوله ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت. وفي فتاوى الخلاصة والفيض: تعليق القسمة على إرادتهم، وهو يؤيد ما سبق غير أنه إذا كان فيهم فقير والباقي أغنياء يتعين عليه أخذ نصيبه ليتصدق به اه ط. وحاصله أن المراد بيان شرط القسمة إن فعلت لا أنها شرط، لكن في استثنائه الفقير نظر إذ لا يتعين عليه التصدق كما يأتي، نعم الناذر يتعين عليه فافهم
(قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة.
وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اه وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة خلافا لما بحثه في الشرنبلاليةمن أنه فيه بمعنى لا يصح ولا حرمة فيه.
(قوله إلا إذا ضم معه إلخ) بأن يكون مع أحدهما بعض اللحم مع الأكارع ومع الآخر البعض مع البعض مع الجلد عناية.

مجلة الاحكام العدلية: (ص: 26، رقم المادة: 96)
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغيربلا إذنه.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :10653