والد مرحوم کے ترکہ سے بچوں کی شادی پر خرچ ہونے والی رقم کا حکم

سوال کا متن:

مفتی صاحب! ایک شخص کے انتقال ہوا جس کی دو بیویاں تھیں، ایک بیوی کا انتقال ان کی اپنی زندگی میں ہی ہو چکا ہے۔ پہلی بیوی سے چار بچے (دو لڑکے اور دو لڑکیاں) ہیں اور دوسری بیوی سے دو بیٹیاں ہیں، ان میں سے ایک لڑکے کی شادی پر نو لاکھ روپے کا خرچہ آیا ہے جو مرحوم کی زندگی میں ہوا ہے اور ایک لڑکی کی شادی پر دو لاکھ روپے اور دوسری لڑکی کی شادی پر پانچ لاکھ کا خرچہ آیا ہے، یہ رقم مرحوم کی وفات کے بعد خرچ ہوئی ہے۔ اب میراث میں چونکہ 50 لاکھ ترکہ ہے تو اس میں دیگر بیٹے بیٹیاں ورثاء ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ جن کی شادی پر والد صاحب نے اپنی حیات میں خرچہ کیا ہے، ان کو حصہ نہ دیا جائے یا کم دیا جائے؟ نیز جس بیٹی کی شادی پر دو لاکھ خرچ ہوئے ہیں، اس کا دعویٰ ہے کہ انہیں مزید تین لاکھ دیے جائیں، کیونکہ دوسری بیٹی کی شادی پر پانچ لاکھ خرچ ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ مرحوم کی سوتیلی ماں بھی حیات ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب کا متن:

جواب: واضح رہے کہ والد کو اپنی زندگی میں اپنے مال میں تصرف کرنے کا مکمل اختیار تھا، لہذا والد مرحوم نے جس بیٹے کی شادی میں نو لاکھ خرچ کیے تھے، اس بیٹے کو بھی والد مرحوم کی میراث میں سے اس کا مکمل شرعی حصہ ملے گا، ہاں! اگر وہ اپنے حصہ پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی دلی رضامندی سے اپنے حصے میں سے کچھ یا مکمل کسی دوسرے وارث کو دے دے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
والد مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ میں سب ورثاء کا حق متعلق ہوچکا تھا، لہذا اگر دونوں بیٹیوں کی شادیوں پر تمام ورثاء کی اجازت سے ترکہ میں سے رقم خرچ کی گئی تھی تو ایسا کرنا جائز تھا اور ایسا کرنے سے شرعاً ان دو بیٹیوں کا حصہ کم یا ختم نہیں ہوگا۔ ہاں! اگر وہ اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی شادی میں خرچ ہونے والی رقم بغیر کسی جبر و اکراہ کے اپنی دلی رضامندی سے ورثاء کو واپس کردیں تو ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
اور اگر کچھ ورثاء نے تمام ورثاء کی اجازت کے بغیر والد مرحوم کے ترکہ سے شادی پر خرچ کیا تھا تو جن لوگوں نے خرچ کیا تھا، وہ اتنی رقم ورثاء کو اپنے پاس سے دینے کے ضامن ہوں گے، ہاں! اگر دیگر ورثاء معاف کردیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مشکٰوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، الفصل الثانی، 889/2، ط: المكتب الإسلامي)
"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه"

الھندیة: (301/2، ط: دارالفکر)
ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه

الھندیة: (447/6، ط: دار الفکر)
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط۔۔۔ثم بالدين۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين۔۔۔ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :15730