1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. اذکار ودعائیں

جو سواری وغیرہ پر نہ بیٹھ سکے، اس کے لیے دعا

سوال

مفتی صاحب ! اگر کوئی شخص سواری وغیرہ پر نہ بیٹھ سکتا ہو، تو اس کے لیے کن الفاظ میں دعا کرنی چاہیے؟

جواب


حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ شکایت کی کہ میں گھوڑے کی پیٹھ پر نہیں بیٹھ سکتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر یہ دعا دی:

اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا

ترجمہ: اے اللہ ! اسے گھوڑے پر جما دے، اور اسے صحیح راستہ دکھانے والا اور خود اسے بھی راہ پایا ہوا بنا دے۔

(صحیح بخاری، بَابُ البِشَارَةِ فِي الفُتُوحِ، رقم الحدیث: 3076)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الصحیح البخاری:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الخَلَصَةِ»، وَكَانَ بَيْتًا فِيهِ خَثْعَمُ، يُسَمَّى كَعْبَةَ اليَمَانِيَةِ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا»، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَكَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بَيْتٌ فِي خَثْعَمَ۔

(صحیح بخاری، بَابُ البِشَارَةِ فِي الفُتُوحِ، رقم الحدیث: 3076، دارالکتب العلمیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6420


فتوی پرنٹ