1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. اذکار ودعائیں

استخارہ کی مسنون دعا

سوال

مفتی صاحب ! استخارہ کی دعا بتادیں۔

جواب

جب کوئی شخص کوئی کام کرنا چاہے اور یہ فیصلہ کرنا ہو کہ یہ کام کرے یا نہ کرے، تو استخارہ کرنا مسنون ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتیں استخارے کی نیت سے پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے:

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ․ اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ، فَاقْدِرْہُ لِیْ، وَ یَسِّرْہُ لِیْ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ․ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ، فَاصْرِِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہ

ترجمہ: اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے استخارہ کرتا ہوں، اور تیری قدرت سے طاقت چاہتا ہوں، اور تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا، بیشک تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے، میرے دین کے اعتبار سے بھی، میری دنیوی زندگی کے اعتبار سے بھی، اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے بھی، تو اسے میرے لیے مقدر فرما، اسے میرے لیے آسان فرما، اور اس میں مجھے برکت عطا فرما، اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بُرا ہے، میرے دین کے اعتبار سے یا میری دنیوی زندگی کے اعتبار سے یا میرے انجامِ کار کے لحاظ سے، تو اسے مجھ سے دور کردے، اور مجھے اس سے دور کردے، اور میرے لیے جہاں بھی بہتری ہو، اس کو مقدر کردے، اور اس پر مجھے راضی بھی کردے۔

(صحیح بخاری، باب ماجاء فی التطوع مثنی مثنی، رقم الحدیث: 1162)

دعا کرتے وقت جب ”ہذا الامر “پر پہنچے تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے، یعنی ”ہذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلا ”ہذا السفر “یا ”ہذا النکاح “ یا ”ہذہ التجارة “یا ”ہذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ”ہذا الأمر “ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے، جس کے لیے استخارہ کررہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الصحیح البخاری:

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ , يَقُولُ : إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ، ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي ، قَالَ : وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ.

(صحیح بخاری، باب ماجاء فی التطوع مثنی مثنی، رقم الحدیث: 1162، دارالکتب العلمیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6418


فتوی پرنٹ