1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. اذکار ودعائیں

سوتے وقت سب سے آخر میں پڑھی جانے والی دعا

سوال

مفتی صاحب ! رات کو سوتے وقت سب سے آخر میں کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟

جواب

جب رات کو سونے کے لیے بستر پر لیٹ جائیں، تو سب سے آخر میں یہ دعا پڑھیں، اور اس دعا کے پڑھنے کے بعد کسی سے بات نہ کریں:

بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ، لاَ مَلْجَأ وَلاَ مَنْجَاَ مِنْکَ اِلاَّ اِلَیْکَ، اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔

ترجمہ: (میں سوتا ہوں) اللہ کے نام سے، اے اللہ ! میں نے اپنی جان آپ کے حوالے کر دی، اپنا رُخ آپ کی طرف کر لیا، اپنے معاملات آپ کو سونپ دیئے اور آپ کو اپنا پشت پناہ بنا لیا۔ آپ کی (رحمت کی) رغبت کرتے ہوئے اور (آپ کے عذاب سے) ڈرتے ہوئے اور آپ (کی پکڑ) سے نجات پانے اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ آپ ہی (کے دامن رحمت) کو تھامنے کے سوا نہیں۔ میں آپ کی اس کتاب پر ایمان لایا جو آپ نے اتاری ہے اور اس نبی پر ایمان لایا جسے آپ نے بھیجا ہے۔

(صحیح بخاری، باب فضل من بات علی الوضوء، رقم الحدیث 247)

فضیلت: حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص سونے سے پہلے نماز کی طرح وضو کرے، پھر بستر پر لیٹ کر یہ دعا پڑھے، اور اس کے بعد کسی سے بات چیت نہ کرے، اگر اس رات اس شخص کا انتقال ہو گیا، تو یہ شخص فطرت پر مرا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الصحیح البخاری:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ۔

(صحیح بخاری، باب فضل من بات علی الوضوء، رقم الحدیث 247، دارالکتب العلمیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6393


فتوی پرنٹ