1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. احادیث کی تحقیق، تخریج و اسنادی حیثیت

بدھ کے دن دعا کی قبولیت سے متعلق حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہما کی حدیث کی تحقیق و تخریج

سوال

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بدھ کے دن ظہر سے عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں، میری دعا قبول ہو جاتی ہے۔ (مسند امام احمد، رقم الحدیث 14568) مفتی صاحب! اس کی تصدیق فرمادیں۔

جواب

سوال میں مذکور الفاظ مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہما کے ہیں، جو انہوں نے ایک حدیث مرفوع کے آخر میں فرمائے ہیں، وہ حدیث مسند احمد میں مذکور ہے، ذیل میں اسے سند ومتن اور ترجمہ کے ساتھ درج کیا جاتا ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ، يَعْنِي: ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَعَا فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ ثَلَاثًا: يَوْمَ الاِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَيَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ، فَعُرِفَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غَلِيظٌ، إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ، فَأَدْعُو فِيهَا فَأَعْرِفُ الإِجَابَةَ.

(مسند احمد: ٢٢/ ٤٢٥ (١٤٥٦٣)، وأورده الهيثمي في «المجمع» ٣/ ٦٨٤ (٥٩٠١) كتاب الحج/ باب في مسجد الفتح، وقال: رواه أحمد، والبزار، ورجال أحمد ثقات.

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسجد الفتح میں تین دن (پیر، منگل اور بدھ) تک دعا مانگی، بالآخر بدھ کے روز دو نمازوں ( ظہر اور عصر) کے درمیان آپ کی دعا قبول ہو گئی، دعا کی قبولیت پر آپ کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار دیکھے گئے۔
حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہما کہتے ہیں: جب بھی مجھے کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا، تو میں اسی گھڑی کا انتظار کرتا (بدھ کے دن ظہر اور عصر کی درمیانی گھڑی) اور اس وقت میں دعا مانگتا تھا، تو میری دعا قبول ہو جاتی تھی۔

حدیث کا حکم

علامہ ہیثمی رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب "مجمع الزوائد" میں اس حدیث کے تمام راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے، لہذا مذکورہ بالا حدیث صحیح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تخریج الحدیث:

حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنهما في المصادر الأخرى

2-البخاري-الأدب ص٢٤٦ (٧٠٤)باب الدعاء عند الاستخارة.

3-البزار-م (كشف) ١/ ٢١٦ (٤٣١)كتاب الصلاة/ باب في مسجد الفتح، بثلاثة طرق.

4-البيهقي-شعب ٥/ ٣٨٧ (٣٥٩١)باب في الصيام/ صوم شوال والأربعاء والخميس والجمعة، وفي أوله: دَعَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي مَسْجِدِ الأَحْزَابِ يَوْمَ الإثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ ....

ولہ شاهد من حديث المطلب بن عبد الله بن حنطب رحمه الله أخرجہ ابن شبۃ فی أخبار المدینۃ

5-ابن شبة-أخبار المدينة ١/ ٥٨ ذكر المساجد والمواضع التي صلى فيها رسول الله ﷺ، مرسلًا و١/ ٦٠ ذكر المساجد والمواضع التي صلى فيها رسول الله ﷺ، مرسلًا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات وجوابات کے لیے ملاحظہ فرمائیں)

http://AlikhlasOnline.com


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6223


فتوی پرنٹ