1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. طلاق و خلع

بیوی کو کئی مرتبہ"تم میری طرف سے فارغ ہو اپنے گھر چلی جاؤ" کہنے کا حکم

سوال

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو اور اپنے گھر چلی جاؤ، لیکن یہ بات کتنی مرتبہ کہی، یہ نہیں معلوم ہو، تو اس صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہونگی اور رجوع کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر اگر اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں یا مذاکرہ طلاق کی حالت میں "تم میری طرف سے فارغ ہو، اپنے گھر چلی جاؤ" کے الفاظ کہے، تو بغیر نیت کے بھی مذکورہ الفاظ سے ایک طلاقِ واقع ہو جاتی ہے، البتہ اگر غصہ یا مذاکرہ طلاق نہ ہو، تو مذکورہ الفاظ کے ذریعے طلاق کی نیت سے ہی طلاق واقع ہوگی۔
پس اگر غصے کی حالت میں یا مذاکرہ طلاق کی حالت میں یہ الفاظ کہے، یا طلاق کی نیت سے کہے تو "تم میری طرف سے فارغ ہو" سے ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی، اور نکاح ختم ہو جائے گا، پھر اس کے بعد "اپنے گھر چلی جاؤ" کے الفاظ لغو اور بےکار ہو جائیں گے، اس کے بعد ان الفاظ کو بار بار دہرانے سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
طلاق بائن ہونے کی صورت میں شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
البتہ عدت میں یا عدت کے بعد طرفین کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، لیکن اس نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، لہذا آئندہ اس بارے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الھندیۃ:

"(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية".

(الفتاویٰ الھندیۃ: 1/ 374، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق
(وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي
(وأما شرطه) على الخصوص فشيئان (أحدهما) قيام القيد في المرأة نكاح أو عدة".

(الفتاویٰ الھندیۃ: 1/ 348، ط: دار الفکر)

وفی الھدایۃ:

"وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله".

(الھدایۃ: 2/ 257، ط: دار احیاء التراث العربی)۔


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6219


فتوی پرنٹ