1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. تجارت و معاملات

کیا قبرستان کی ہری گھاس کاٹ سکتے ہیں؟

سوال

مفتی صاحب! میں قبرستان میں گورگن ہوں، قبریں کھودنے کا کام کرتا ہوں، یہاں بعض جگہ ہری گھاس اگ آتی ہے، اگر اسے کاٹا نہ جائے، تو بارش وغیرہ کی وجہ سے سوکھنے کے بعد خراب ہوجاتی ہے، اوراس کے دام بھی کم ملتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا قبرستان کی ہری گھاس کاٹ سکتا ہوں؟

جواب

قبرستان کی ہری گھاس کاٹنے سے علماء نے منع فرمایا ہے، کیونکہ قبرستان کی ہری گھاس اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کرتی ہے، جس سے اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے اور مردوں کو اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، لہذا اگر ہری گھاس کو کاٹ دیا جائے گا، تو مردے اس فائدے سے محروم رہیں گے، البتہ قبروں کو چھوڑ کر قبروں کے ارد گرد کی خراب ہونے والی گھاس کو صفائی یا راستہ بنانے کی خاطر کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر قبروں کے اوپر کی گھاس اصلاح اور درستگی کے لئے کاٹی جائے، تو اس کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے، باقی اگر قبرستان کی ہری گھاس خشک ہوجائے، تو اس کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

يكره أيضا قطع النبات الرطب والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر والدرر وشرح المنية وعلله في الإمداد بأنه ما دام رطبا يسبح الله - تعالى - فيؤنس الميت وتنزل بذكره الرحمة اهـ ونحوه في الخانية.

(ج: 2، ص: 245، ط: دار الفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6201


فتوی پرنٹ