1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

آیت سجدہ بار بار تلاوت کرنے کی صورت میں کب اور کتنے سجدے لازم ہونگے؟

سوال

السلام علیکم، کسی کو قرآن کریم پڑھانے کے دوران اگر آیت سجدہ بار بار پڑھائی جائے تو سجدہ کب اور کتنی بار کیا جائے؟ آن لائن کلاس کے دوران سجدہ کرنا ضروری ہے یا بعد میں بھی کر سکتے ہیں؟ استاد اور شاگرد دونوں کے بارے میں وضاحت کریں۔

جواب

قرآن مجید پڑھنے والا بچہ اگر نابالغ ہے تو اس پر آیت سجدہ تلاوت کرنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا، اور نابالغ بچے سے آیت سجدہ سننے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ بچہ ممیز اور سمجھدار ہے تو اس کے پڑھنے سے سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجائے گا، لیکن اگر وہ ممیز اور سمجھدار نہیں ہے تو اس کے پڑھنے سے سننے والے پر بھی سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔

اگر بچہ بالغ اور سمجھ دار ہے، تو اس کے بار بار پڑھنے کی صورت میں سجدہ تلاوت واجب ہونے کی تفصیل یہ ہے :

1۔۔ اگر ایک ہی آیت کئی مرتبہ ایک ہی مجلس میں پڑھی یا سنی تو ایک ہی سجدہ کرنا واجب ہوگا۔

2۔۔ اگر ایک ہی آیتِ سجدہ کئی مرتبہ مختلف مجالس میں پڑھی یا سنی تو ہر مجلس میں پڑھنے اور سننے سے الگ الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا۔

3۔۔ اگر مختلف آیاتِ سجدہ پڑھیں یا سنیں تو ہر آیت سجدہ کے لیے الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا، چاہے مجلس ایک ہو یا مختلف ہو۔

آیت سجدہ پڑھنے یا سننے کے بعد افضل اور بہتر یہ ہے کہ اسی وقت سجدہ تلاوت کرلے، ورنہ تلاوت مکمل کرکے کرلے، لہذا آن لائن کلاس کے دوران اگر سجدہ تلاوت نہ کرسکتا ہو تو کلاس مکمل ہونے کے بعد سجدہ تلاوت کرلے، اس میں زیادہ تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی مراقی الفلاح:

کمن کررھا أي الآیة الواحدة في مجلس واحد حیث تکفیہ سجدة واحدة... لأن النّبي صلی اللّہ علیہ وسلم کان یقروٴھا علی أصحابہ مرارًا ویسجد مرّة۔

(ص:494)

کذا فی الشامیہ:

ولو کررھا فی مجلسین تکررت.

( ج2، ص :726 . باب سجود التلاوۃ )

وایضاََ:
وتجب ... (على من كان) متعلق بيجب (أهلاً لوجوب الصلاة)؛ لأنها من أجزائها (أداء) كالأصم إذا تلا، (أو قضاءً) كالجنب والسكران والنائم، (فلا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا)؛ لأنهم ليسوا أهلاً لها، (وتجب بتلاوتهم) يعني المذكورين (خلا المجنون المطبق) فلا تجب بتلاوته؛ لعدم أهليته.

(ج2، ص 107)


کذا فی البحر الرائق:

'' وفي التجنيس: وهل يكره تأخيرها عن وقت القراءة ذكر في بعض المواضع: أنه إذا قرأها في الصلاة فتأخيرها مكروه، وإن قرأها خارج الصلاة لايكره تأخيرها. وذكر الطحاوي: أن تأخيرها مكروه مطلقاً، وهو الأصح اهـ.وهي كراهة تنزيهية في غير الصلاتية؛ لأنها لو كانت تحريميةً لكان وجوبها على الفور وليس كذلك''.

(ج:2 ص:129)

کذا فی الهندية:

''وفي الغياثية: وأداؤها ليس على الفور حتى لو أداها في أي وقت كان، يكون مؤدياً لا قاضياً، كذا في التتارخانية. هذا في غير الصلاتية، أما الصلاتية إذا أخرها حتى طالت القراءة تصير قضاءً ويأثم، هكذا في البحر الرائق۔

(ج:1 ص:135)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6194


فتوی پرنٹ