1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. معاشرت (اخلاق وآداب )

"عریشہ حریم" (مرکب) نام رکھنا

سوال

مفتی صاحب ! بچی کا نام "عریشہ حریم" رکھنا اچھا ہے یا نہیں؟

جواب

"عریشہ حریم" ایک مرکب نام ہے، اور مفرد نام کی طرح مرکب نام رکھنا بھی جائز ہے، لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اولاد کے نام مفرد رکھے تھے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ مفرد نام رکھا جائے۔

لفظ "عریشہ" کا معنی ہے پالکی ، جبکہ "حریم" مقدس چیز یا جگہ کو کہتے ہیں، مذکورہ نام رکھنا جائز ہے، مگر چونکہ نام کے پہلے حصے کا کوئی با مقصد مطلب نہیں بنتا، اس لئے بہتر ہے کہ اس نام کے بجائے کوئی دوسرا اچھے معنی والا نام رکھ لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال فی الفقه الإسلامي وأدلته:

"ويجوز التسمية بأكثر من اسم واحد، والاقتصار على اسم واحد أولى، لفعله صلّى الله عليه وسلم بأولاده"۔

(ص: 643، ج: 3، ط: دار الفکر)

قال فی قاموس الوحید:

1. الحریم: جس کی بے حرمتی نہ کی جائے، قابل احترام و تقدس چیز یا جگہ

(ص:333، ط: ادارہ اسلامیات)

2. العریشہ: ہودہ، اونٹ پر رھنے کی پالکی۔

(ص:1066، ص:ادارہ اسلامیات)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6185


فتوی پرنٹ