1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

کیا سجدہ تلاوت کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟ نیز کیا نمازِ فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کر سکتے ہیں؟

سوال

مفتی صاحب ! کیا سجدہ تلاوت کے لیے با وضو ہونا ضروری ہے؟ نیز کیا عصر اور فجر کے فرائض کے بعد سجدہ تلاوت ادا کر سکتے ہیں؟

جواب

(1) واضح رہے کہ جن شرائط کا نماز کے لیے پایا جانا ضروری ہے، انہی شرائط کا سجدہ تلاوت کے لئے بھی پایا جانا ضروری ہے، جیسے بدن کا پاک ہونا، کپڑوں کا پاک ہونا، جگہ کا پاک ہونا، ستر کو چھپانا، قبلہ کی طرف رخ ہونا، با وضو ہونا، لہذا سجدہ تلاوت کے لئے با وضو ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا۔


(2) نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی بدائع الصنائع:
وأما شرائط الجواز فكل ما هو شرط جواز الصلاة من طهارة الحدث وهي الوضوء والغسل، وطهارة النجس وهي طهارة البدن والثوب، ومكان السجود والقيام والقعود فهو.
شرط جواز السجدة؛ لأنها جزء من أجزاء الصلاة فكانت معتبرة بسجدات الصلاة.

(ج: 1، ص: 186، ط: دار الکتب العلمیہ)


وفیہ ایضا:

وشرائط هذه السجدة شرائط الصلاة إلا التحريمة

(ج1، ص135، ط: دار الفکر)


کما فی الھندیۃ:

تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان.
منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر. كذا في النهاية والكفاية يكره فيه التطوع بأكثر من سنة الفجر.

(ج: 1، ص: 52، ط: دار الفکر)

وفی الشامیۃ:

(۔۔و)۔۔۔۔(بعد صلاة فجر و) صلاة (عصر) ولو المجموعة بعرفة (لا) يكره (قضاء فائتة و) لو وترا أو (سجدة تلاوة وصلاة جنازة۔۔)

(ج: 1، ص: 374، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6503


فتوی پرنٹ