کورٹ میرج کا شرعی حکم اور نکاح کی غرض سے اسلام قبول کرنے کا حکم

سوال کا متن:

حضرت مولانا مفتی صاحب ! السلام علیکم، ایک اہم مسئلہ کی جانب آپ کی توجہ اور اس کے شرعی احکام کے بارے میں آپ سے سوال ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایسی غیر مسلم لڑکی جو کسی بھی مسلمان لڑکے کے ساتھ اپنے گھر سے جاکر کورٹ میرج کر لیتی ہیں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لڑکا بھی غیر مسلم ہوتا ہے، اور لڑکی بھی غیر مسلم ہوتی ہے، اور وہ سب سے پہلے کسی بھی دارالافتاء میں جاکر اسلام قبول کرتے ہیں، اور پھر اسی سند الاسلام کو کورٹ میں پیش کرکے کورٹ میرج کر لیتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ ان دونوں صورتوں میں والدین کی رضا مندی شامل نہیں ہوتی، پھر اس کے ساتھ ایک اور المناک صورت حال یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض لڑکیاں کسی بھی غیر مسلم لڑکے کے نام نہاد عشق میں مبتلا ہو کر اس سے شادی کر لیتی ہیں، یعنی کورٹ میرج کر لیتی ہیں، لہذا ایسی شادیوں یا کورٹ میرج کے بارے میں شرعی احکامات کیا ہیں؟

جواب کا متن:

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے لڑکی اور لڑکے دونوں کی حیاء، پاکدامنی، اخلاق اور معاشرت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے ولی کی سرپرستی میں نکاح کی ترغیب دی ہے ،یہی شرعاً ،اخلاقاً اور معاشرۃً پسندیدہ طریقہ ہے ،اسی میں دینی ،دنیوی اور معاشرتی فوائد ہیں، لہذا ولی کی رضامندی کے بغیر کورٹ میرج یا خفیہ طور پر نکاح کرنا عُرفاً شرم وحیا کے خلاف ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر عاقل بالغ لڑکا اور لڑکی والدین کو لاعلم رکھ کر شرعی گواہوں کی موجودگی اپنے کفو( یعنی خاندان ،نسب ، مال اور دین کے اعتبار سے برابر ) میں نکاح کریں، تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔

2. واضح رہے کہ اسلام میں یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس لئے اسلام قبول کرے کہ اس کی فلاں شخص سے شادی ہوجائے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہدایت کو حاصل کرنا اس کا مقصد نہ ہو۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہےجس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ہے تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی کی جانب ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کےلیے ہے کہ اسےکمائے یا عورت کے لیے ہے کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت انہی کی جانب ہے۔

لہذا اگر کوئی شخص دل کی آمادگی کے ساتھ اسلام قبول نہ کرے، صرف اس لئے مسلمان ہوجائے کہ فلاں لڑکے یا لڑکی سے میری شادی ہوجائے تو اندیشہ ہے کہ اس کو کماحقہ اجر و ثواب نہ ملے اور اگر وہ اسی کیفیت پر قائم رہے تو یہ ایک طرح کا نفاق ہوگا اور عجب نہیں کہ آخرت میں اس کا ظاہری ایمان اس کے منہ پر مار دیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی صحیح البخاری:

باب في ترك الحيل، وأن لكل امرئ ما نوى في الأيمان وغيرها.....عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الأعمال بالنية، ولكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة يتزوجها، فهجرته إلى ما هاجر إليه»

(حدیث نمبر:٦٩٥٣, ج:٩، ص: ٢٢، ط: دار طوق النجاة)


وفی المعجم الأوسط للطبراني:

عن جابر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تنكحوا النساء إلا الأكفاء، ولا يزوجهن إلا الأولياء، ولا مهر دون عشرة دراهم»

(ج١، ص:٦،ط: دار الحرمين)

وفی الھندیة:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً، وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ...ﻭﺭﻭﻯ اﻟﺤﺴﻦ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ - ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ - ﺃﻥ اﻟﻨﻜﺎﺡ ﻻ ﻳﻨﻌﻘﺪ ﻭﺑﻪ ﺃﺧﺬ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻦ ﻣﺸﺎﻳﺨﻨﺎ ﺭﺣﻤﻬﻢ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭاﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻧﻨﺎ ﻟﻠﻔﺘﻮﻯ ﺭﻭاﻳﺔ اﻟﺤﺴﻦ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺸﻴﺦ اﻹﻣﺎﻡ ﺷﻤﺲ اﻷﺋﻤﺔ اﻟﺴﺮﺧﺴﻲ ﺭﻭاﻳﺔ اﻟﺤﺴﻦ ﺃﻗﺮﺏ ﺇﻟﻰ اﻻﺣﺘﻴﺎﻁ، ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ ﻓﻲ ﻓﺼﻞ ﺷﺮاﺋﻂ اﻟﻨﻜﺎﺡ وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة: أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق. ولايكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما"

(ج:١،ص: ٢٩٣، ط: دار الفكر )

وفى بدائع الصنائع:

كفاءة الزوج في إنكاح المرأة الحرة البالغة العاقلة نفسها من غير رضا الأولياء بمهر مثلها....فقد قال عامة العلماء: أنها شرط.....لنا ما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا يزوج النساء إلا الأولياء، ولا يزوجن إلا من الأكفاء، ولا مهر أقل من عشرة دراهم» ، ولأن مصالح النكاح تختل عند عدم الكفاءة؛ لأنها لا تحصل إلا بالاستفراش، والمرأة تستنكف عن استفراش غير الكفء، وتعير بذلك، فتختل المصالح؛ ولأن الزوجين يجري بينهما مباسطات في النكاح لا يبقى النكاح بدون تحملها عادة، والتحمل من غير الكفء أمر صعب يثقل على الطباع السليمة، فلا يدوم النكاح مع عدم الكفاءة، فلزم اعتبارها.

(ج:٢، ص: ٣١٧، ط: دارالکتب العلمية )

وفی الشامية:

يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة

(ج:٣,ص:٥٥، ط: دار الفكر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6469