1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

1- بیوہ کی مرحوم شوہر کے کاروبار٬ بینک اکاونٹس اور جائیداد میں شرکت کی صورت میں ترکہ کی تقسیم 2-عدت کے دوران قانونی کاروائی کیلئے باہر ملک سفر کرنے کا حکم 3- بیوہ٬ تین بیٹیوں اور ایک بھائی کے درمیاں میراث کی تقسیم 4- میراث

سوال

مفتی صاحب ! میں اپنے شوہر کے ساتھ کاروبار میں پارٹنر ہوں، آدھا کاروبار میرے نام ہے اور آدھا میرے شوہر کے نام ہے، البتہ کاروبار میں میں نے کچھ پیسے نہیں لگائے تھے، بلکہ سارے پیسے میرے شوہر ہی کے تھے، اسی طرح تمام بینک بیلنس، اکاؤنٹس اور جائیداد ہم دونوں کے نام مشترکہ ہیں، تمام پراپرٹی کرایہ پر دی ہوئی ہیں، جو کہ آمدن کا واحد ذریعہ ہیں، شوہر کی زندگی میں مجھے مکمل اختیار اور مکمل اتھارٹی تھی، کرایہ اور کیش وغیرہ جو کچھ بھی آتا تھا، وہ مجھے ہی دیتے تھے، اور ان کو جب خرچہ کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی، تو مجھ سے ہی مانگتے تھے۔ میرے شوہر کے بھائی اور میری بچیاں اس بات پر متفق ہیں کہ جو آدھا کاروبار، بینک بیلنس، اور جائیداد میرے نام پر ہے، وہ میرا ہے۔ ہماری کچھ مشترکہ جائیداد دبئی میں بھی ہے، جس کی power of attorney میرے نام ہے۔ اس ساری تفصیل کے بعد آپ سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: (1) کیا یہ تمام جائیداد، بینک بیلنس اور کاروبار وغیرہ شوہر کی ملکیت شمار ہوں گے یا آدھا میرا اور آدھا میرے شوہر کا ہوگا؟ (2) چونکہ دبئی کی جائیداد میرے نام ہے، اس لیے اگر میں فی الفور وہان نہ جاؤں، اور وہاں کی حکومت کو میرے شوہر کے انتقال کی خبر ہوجائے، تو جائیداد فروخت کرنے میں 4 سے 5 سال لگ جائیں گے، تو کیا میں ایسی صورت میں عدت کے دوران دبئی جا سکتی ہوں؟ (3) شوہر کے ورثاء میں بیوی، 3 بیٹیاں اور ایک زندہ بھائی ہے، جبکہ ایک بھائی کا شوہر کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا، ان میں میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ (4) وراثت عدت میں تقسیم کرنا ضروری ہے یا عدت کے بعد بھی تقسیم کر سکتے ہیں؟ براہ مہربانی ان سوالات میں میری شرعی رہنائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب

1۔ واضح رہے کہ زندگی میں مکان یا کوئی جائیداد کسی کے نام کرنا، شرعاً ہبہ (gift) کہلاتا ہے، اور ہبہ کے مکمل ہونے کے لئے شرعاً ضروری ہے کہ کاغذی کاروائی میں اس کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ اگلے بندے کو باقاعدہ مالک اور قابض بناکر دیا جائے، اور اگر ہبہ کے طور پر دی جانے والی چیز ناقابلِ تقسیم ہو یا تقسیم کے بعد اس سے نفع حاصل کرنا مشکل ہو٬ وہاں قبضہ حکمی یعنی مالکانہ تصرف کرنے کا حق دینا بھی کافی سمجھاجائے گا٬ جس سے ہبہ مکمل ہوجائے گا، جبکہ ناقابلِ تقسیم چیزوں میں مالکانہ تصرف کا حق دئیے بغیر محض کاغذی کاروائی میں کسی کے نام کرنے سے اگلے کی ملکیت اور قبضہ ثابت نہ ہوگا، جب تک کہ اسے باقاعدہ مالکانہ قبضہ یا مالکانہ تصرفات کا حق نہ دے دیا جائے۔

اس وضاحت کے بعد موجودہ صورتحال میں کاروبار، بینک بیلنس اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق یہ تفصیل ہے کہ:
چونکہ اس کاروبار میں بیوی کا ذاتی سرمایہ شامل نہیں تھا٬ بلکہ مرحوم نے اپنے طور پر اہلیہ کو اپنے ذاتی کاروبار اور بینک بیلنس میں آدھے حصے (%50) کی حد تک شریک کرلیا تھا٬ اور کاغذی کارروائی کے ساتھ٬ باقاعدہ اسے مالکانہ تصرفات کا حق بھی دیدیا تھا، (جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام شرعی ورثاء اس پر متفق ہیں) تو ایسی صورت میں بیوی مرحوم کی زندگی میں ہی اس کے آدھے کاروبار اور بینک بیلنس کی مالکہ بن گئی تھی٬ جو کہ بعد میں دونوں کے درمیان شرکت کے طور پر جاری رہا، لہذا موجودہ صورتحال میں کاروبار اور بینک بیلنس میں پچاس فیصد (%50) حصہ (Share) بیوی کی ملکیت شمار ہوگا٬ اور باقی پچاس فیصد مرحوم کی ملکیت تھا٬ جس میں میراث کے احکام جاری ہونگے۔


جہاں تک غیر منقولی جائیداد (property) کا تعلق ہے٬ تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں بیوہ کو کاغذی کاروائی میں شریک کرنے کے ساتھ ساتھ جس جائیداد کا اسے باقاعدہ مالک اور قابض بنا دیا تھا، اتنی جائیداد میں ہبہ(gift) مکمل ہوچکا تھا٬ اور بیوہ ہی اس کی مالکہ ہوگی، بعد ازاں اگر اس جائیداد کو بیوی کی اجازت سے کرایہ پر دیا ہو، تو یہ جائز ہے اور اس کا کرایہ بھی بیوی کی ملکیت ہوگا، البتہ بیوی کی اجازت سے شوہر استعمال کرسکتا تھا، لیکن اگر بیوی کے نام جائیداد تو خریدی اور ہبہ کے الفاظ بھی کہے، لیکن قبضہ اور تصرف نہیں دیا، بلکہ اپنی حیات تک اس کا قبضہ اور تصرف اپنے ہاتھ میں رکھا، تاکہ اس کا کرایہ استعمال کرسکے، تو یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا، کیونکہ اس میں ہبہ کرنے والے کا تصرف باقی ہے، لہذا ایسی ساری جائیداد مرحوم کی ملکیت تھی، جس میں میراث جاری ہوگی۔


(2) عدت کے دوران عورت کے لئے عام حالات میں گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر درپیش ہو، مثلاً: اس کی جان یا صحت کو خطرہ ہو، یا باہر نہ نکلنے کی صورت میں اس کے مال کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو٬ تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت اتنے وقت کے لئے ملک سے باہر نکلنے کی گنجائش ہوگی۔

لہذا مذکورہ صورت میں اگر بیوہ کو اپنے مال و جائیداد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں قانونی کاروائی وغیرہ کیلئے باہر نکلنا اور سفر کرنا ناگزیر ہو، اس کے جائے بغیر وہ کام نہ ہوسکتا ہو، تو ایسی مجبوری کی صورت میں اس کے لئے اپنے مال و جائیداد کے تحفظ کی غرض سے باہر ملک جانے کی گنجائش ہوگی، لیکن کام مکمل ہوتے ہی واپس اپنے گھر آکر بقیہ عدت گزارنا ضروری ہوگا۔


(3) صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، نقد رقم٬ بینک بیلنس٬ سونا چاندی، اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو ساز و سامان چھوڑا ہو٬ وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات ادا کئے جائیں گے، اگر کسی نے یہ اخراجات اپنی طرف سے تبرعاً ادا کر دیے ہوں٬ تو ترکہ سے یہ اخراجات منہا (نکالے) نہیں کئے جائیں گے٬ البتہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجب الاداء ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال میں ایک تہائی (1/3) تک اس کو نافذ کریں گے۔

اس کے بعد جو مال بچے، اُس کے بہتر (72) برابرحصے کرکے، بیوہ کو نو (9)، تین بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو سولہ (16)٬ اور بھائی کو پانچ (15) حصے ملیں گے۔

اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں، تو ہر ایک کا حصہ درجِ ذیل تناسب سے تقسیم ہوگا:

بیوہ کو %12.5 فیصد
ہر ایک بیٹی کو %22.22 فيصد
بھائی کو %20.83 فیصد ملے گا۔

جو بھائی مرحوم کی زندگی میں ہی فوت ہوچکا تھا، اس بھائی کا میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔


(4) عمومًا میراث کو جلدی تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے باہمی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں، اس لیے میراث جلدی تقسیم کردینا بہتر ہے، لہذا اگر ورثاء عدت ختم ہونے تک میراث تقسیم نہ کرنے پر راضی ہوں، تو عدت ختم ہونے کے بعد تقسیم کر لی جائے، اور اگر عدت ختم ہونے سے پہلے میراث کی تقسیم کا مطالبہ کریں، تو عدت ختم ہونے سے پہلے تقسیم کرنا ہوگی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی القرآن الکریم:

"وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ "

[النساء :13]

وفی الفتاوى الهندية:

"ومنها: أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب"

(ج4، ص 374، ط.درالفکر بیروت)

و فی الدر المختار مع الرد:

"(وﺗﻌﺘﺪاﻥ) ﺃﻱ ﻣﻌﺘﺪﺓ ﻃﻼﻕ ﻭ ﻣﻮﺕ (ﻓﻲ ﺑﻴﺖ ﻭﺟﺒﺖ ﻓﻴﻪ) ﻭﻻ ﻳﺨﺮﺟﺎﻥ ﻣﻨﻪ (ﺇﻻ ﺃﻥ ﺗﺨﺮﺝ ﺃﻭ ﻳﺘﻬﺪﻡ اﻟﻤﻨﺰﻝ، ﺃﻭ ﺗﺨﺎﻑ) اﻧﻬﺪاﻣﻪ، ﺃﻭ (ﺗﻠﻒ ﻣﺎﻟﻬﺎ، ﺃﻭ ﻻ ﺗﺠﺪ ﻛﺮاء اﻟﺒﻴﺖ) ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﻀﺮﻭﺭاﺕ ﻓﺘﺨﺮﺝ ﻷﻗﺮﺏ ﻣﻮﺿﻊ ﺇﻟﻴﻪ"

(ج:5 ، ص: 536، ط: دارالفکر بیروت)

وفیہ ایضا:

"والحاصل: أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها"

(ج5، ص536، ط: دارالفکر بیروت)


وفیہ ایضاً:

(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض.
في المجتبى: حانوت لهما يعملان فيه طلب أحدهما القسمة إن أمكن لكل أن يعمل فيه بعد القسمة ما كان يعمل فيه قبلها قسم و إلا لا.

(ج6، ص260، دارالفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6549


فتوی پرنٹ