نماز کا سلام پھیرنے کے بعد کی دعائیں

سوال کا متن:

مفتی صاحب ! نماز کا سلام پھیرنے کے بعد کی دعائیں ارشاد فرمادیں۔

جواب کا متن:

نماز کا سلام پھیرنے کے بعد کی دعائیں

(1) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔

ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کیلئے تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، برائی سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی توفیق سے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کی طرف سے انعام ہے، اور اسی کے لیے فضل، اور اسی کے لیے بہترین ثناء ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اسی کے لیے بندگی کو خالص کرتے ہیں، چاہے کافروں کو کتنا برا لگے۔

(صحيح مسلم، بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ، رقم الحديث: 1343)

(2) اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔

ترجمہ: اے اللہ ! میری اس بات پر مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کر سکوں، تیرا شکر ادا کروں، اور تیری اچھی عبادت کروں۔

(السنن لابي داؤد، بَابٌ فِي الِاسْتِغْفَارِ، رقم الحديث: 1522)

فضیلت: حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے فرمایا: اے معاذ ! مجھے تم سے محبت ہے، اے معاذ ! اس دعا کو کسی نماز کے بعد کبھی نہ چھوڑنا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الصحیح لمسلم:

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ۔

(صحيح مسلم، بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ، رقم الحديث: 1343)


کذا فی السنن لابي داؤد:

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ الصُّنَابِحِيّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ»، فَقَالَ: " أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ "، وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔

(السنن لابي داؤد، بَابٌ فِي الِاسْتِغْفَارِ، رقم الحديث: 1522، دار ابن حزم)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6543