1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

کیا جماعت نکل جانے کی صورت میں گھر پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

سوال

مولانا صاحب ! جماعت کی نماز نکل جائے، تو گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں، یا مسجد ہی جانا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ بغیر کسی شرعی عذر کے جماعت کی نماز نکل جانا مسلمان کی شایانِ شان نہیں ہے، اس لیے ہر مسلمان عاقل بالغ کو پانچ وقت نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے، کیونکہ جان بوجھ کر جماعت کی نماز چھوڑنے کی عادت بنالینا گناہ ہے، تاہم اگر کبھی کسی عذر کی وجہ سے جماعت کی نماز نکل جائے تو کوشش کرے کہ کسی قریبی مسجد میں جماعت سے نماز مل جائے، اگر دوسری مسجد میں بھی جماعت نہ مل سکتی ہو تو پھر اکیلے مسجد یا گھر میں (دونوں طرح) نماز ادا کرنے کی اجازت ہے، لیکن اس میں بہتر صورت یہ ہے کہ گھر والوں کو جمع کر کے جماعت سے نماز ادا کرلے۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک مرتبہ انصار کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے، اور اس وقت واپس ہوئے جب مسجدِ نبوی میں نماز ہوچکی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی گھر تشریف لے گئے اور گھر والوں کو جمع کرکے نماز پڑھائی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

عن أبي بکرۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أقبل من نواحي المدینۃ یرید الصلاۃ، فوجد الناس قد صلوا، فمال إلی منزلہ فجمع أہلہ فصلی بہم۔

(رواہ الطبراني في الأوسط 284/3 رقم: 4601، کذا في إعلاء السنن 266/4 بیروت)

کذافی الدرالمختار:

(والجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال… (وأقلھا اثنان)… (وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ)… (فتسنّ أو تجب)… علی الرجال العقلاء البالغین الأحرار القادرین علی الصلاۃ بالجماعۃ من غیر حرج)… (فلا تجب علی مریض ومقعد وزمن ومقطوع یدورجل من خلاف) … (ومفلوج وشیخ کبیر عاجز وأعمیٰ) وإن وجد قائداً… وقیامہ بمریض الخ۔

(ج:1 ص:552)

وفیہ ایضاً:

(قولہ ولو فاتتہ ندب طلبھا)… وذکر القدوری: یجمع بأھلہ ویصلی بھم، یعنی وینال ثواب الجماعۃ کذا فی الفتح۔

(ج:1 ص:555)

وفیہ ایضاً

وھو أن صلاۃ الجماعۃ واجبۃ علی الراجح فی المذھب أو سنۃ مؤکدۃ فی حکم الواجب کما فی البحر وصرّحوا بفسق تارکھا وتعزیرہ وأنہ یأثم.

(ج:1 ص:560)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6386


فتوی پرنٹ