1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

زندگی میں تمام جائیداد بیٹوں میں تقسیم کرنا اور بیٹیوں کو محروم کرنا

سوال

میرے والد نے اپنی جائیداد صرف اپنے بیٹوں میں تقسیم کی، پٹواری نے جب ان سے سوال کیا کہ تمہارے کتنے بچے ہیں؟ والد نے جھوٹ کہا 4 بیٹے، جب کہ انہوں نے جان بوجھ کر 4 بیٹیوں کا بتایا ہی نہیں، اس طرح پٹواری نے زرعی زمین صرف بیٹوں کے نام منتقل کردی۔ کیا والد کا یہ عمل درست ہے؟ دوسرا سوال کیا میں اب اپنے بھائیوں پر کیس کر سکتی ہوں کہ مجھے میرا حصہ ملنا چاہیئے، جبکہ بھائیوں کا کہنا ہے کہ والد کی مرضی تھی، ہم کچھ نہیں کر سکتے، اب تمام جائیداد کے مالک بھائی ہیں۔

جواب

زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لے، تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ جائیداد اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے, اتنا ہی بیٹی کو دے، نہ کسی کو محروم کرے، اور نہ ہی بلا وجہ کمی بیشی کرے، البتہ اگر وہ اولاد میں سے کسی کو معقول وجہ (مثلا اولاد میں سے کسی کی مالی حالت کمزور ہونے، زیادہ خدمت گزار ہونے، علم دین میں مشغول ہونے، یا کسی اور وجہ فضیلت کی وجہ) سے زیادہ دیتا ہے، اور اس سے دوسرے بچوں کو محروم کرنا یا نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو، تو شرعاً وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔

پس اگر صورت مسئولہ میں بیٹوں کو جائیداد دینے میں، ان وجوہات میں سے کوئی وجہ نہیں تھی، تو والد کا بیٹی کو محروم کرنے کا یہ عمل غیر منصفانہ تھا، لیکن اس کے باوجود اگر آپ کے والد نے چاروں بیٹوں کو جائیداد نام کرنے کے ساتھ ساتھ قبضہ اور ملکیت بھی دیدی تھی، تو شرعاً یہ ہبہ(گفٹ) مکمل ہوگیا، اور چاروں بیٹے اپنے اپنے حصہ کے مالک بن گئے، بیٹی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔


واضح رہے کہ مذکورہ بالا حکم زندگی میں تقسیم کرنے والی جائیداد کے بارے میں ہے، البتہ جو جائیداد تقسیم نہیں کی تھی، اس میں والد کے مرنے کے بعد تمام شرعی ورثاء اپنے حصص کے بقدر حقدار ہونگے۔

نوٹ: چاروں بیٹے اگر مناسب سمجھیں تو والد کو اس غیر منصفانہ تقسیم کے گناہ سے بچانے کے لیے اپنے اپنے حصے سے اپنی بہن کو بھی کچھ دے کر راضی کرلیں، تاکہ ان کے والد کو آخرت میں پریشانی نہ ہو۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:


کذا فی رد المحتار:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".

(كتاب الوقف، 4/ 444 ط:سعيد، کراچی)


کذا فی مجلة الأحكام العدلية:

"كل يتصرف في ملكه كيف ما شاء".

(1/ 230)


کذا فی الھندیۃ:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".

(ج4، ص378، الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز، ط: رشیدیہ)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6243


فتوی پرنٹ