1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. کھانے پینے میں حلال و حرام

نامحرم مرد و عورت کے لئے ایک دوسرے کا جوٹھا کھانے کا حکم

سوال

اگر شوہر کے دوست گھر پر مہمان بن کر آئیں، اور وہ کچھ کھانا بچا دیں، تو کیا ان کا بچا ہوا جوٹھا کھانا گھر کی عورتیں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نامحرم مرد مہمان کھانا بچادیں، تو گھر کی عورتوں کے لئے اس بچے ہوئے کھانے کو کھانا جائز ہے، البتہ فقہاء کرام نے اس صورت میں جوٹھا کھانے کو مکروہ کہا ہے، جبکہ مرد نامحرم عورت کا جوٹھا یا عورت نامحرم مرد کا جوٹھا لذت حاصل کرنے کے لیے کھائے، اسی طرح نامحرم کا جوٹھا اس کی موجودگی میں ہو، تو منع ہے، اس سے بھی شیطان کو غلط وسوسہ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

يكره سؤرها للرجل كعكسه للاستلذاذ

(ج: 1، ص: 221، ط: دار الفکر)

وفی تقریرات الرافعی:

(قول الشارح یکره للمرأة سور الرجل وسورها لہ) قال في النهر ليس ھذا لعدم الطهارة بل للاستلذاد قال ط اماعند عدمه فلا على الظاہر و حررہ وينبغي أن يقيد بما إذا علم المرأة التي شربت من الماء او علمت ھي الرجل الشارب اما بدونه فلا كراهة لان الانسان لا یشتہی من لا يعلمه۔۔الخ

(ج: 6، ص: 311، ط: سعید)

وفی النھر الفائق:

وما في المجتبى من كراهة سؤرها للأجنبي كسؤره لها ليس لعدم طهارتها بل للالتذاذ الحاصل للشارب اثر صاحبه

(ج: 1، ص: 92، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وکذا فی فتاوی عباد الرحمٰن:

(ج: 7، ص: 47)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6344


فتوی پرنٹ