1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

والد کے ساتھ شادی شدہ بیٹوں کے رہنے اور اپنی اپنی آمدنیاں والد کو حوالہ کرنے کی صورت میں، ان آمدنیوں سے بنایا گیا مکان و زمین کس کی ملکیت شمار ہوگی؟

سوال

ہم اپنے والد کے تین بیٹے ہیں، اور تینوں شادی شدہ ہے، ہمارا مشترک کاروبار نہیں ہے، بلکہ ہم میں سے ہر ایک علیحدہ کام کرتا ہے، اور جو تنخواہیں ملتی ہیں، وہ سب والد صاحب کو دیتے ہیں، تاکہ وہ گھر کے نظام کو چلا سکیں، کیونکہ ہمارا کھانا، پینا سب والد اور والدہ کے ساتھ مشترک ہے، والد صاحب نے ہماری دی گئی جمع شدہ رقم سے ایک مکان اور دو زمینیں خرید رکھیں ہیں، سوال یہ ہے کہ اس مکان اور زمینوں کے مالک ہم بیٹے ہیں یا والد صاحب ہیں، وضاحت فرمادیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ آپ تینوں بیٹے والد صاحب کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی اپنی ماہانہ تنخواہیں والد صاحب کو گھر کا نظام چلانے کے لئے حوالہ کرتے ہیں، لہذا ان جمع شدہ رقم سے جو مکان اور دو زمینیں خریدی گئی ہیں، وہ آپ کے والد صاحب کی ملکیت شمار ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير

(ج: 4، ص: 325، ط: دار الفکر)

وکذا فی فتاوی رحیمیۃ:

(ج: 9، ص: 185، ط: دار الاشاعت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6330


فتوی پرنٹ