1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

سوال

مفتی صاحب ! میرے گھر کے نزدیک جو مسجد ہے، اس میں کافی بدعات کی جاتی ہیں اور امام کا عقیدہ بھی درست نہیں ہے، جو صحیح العقیدہ مسجد ہے، وہ کافی فاصلے پر واقع ہے، صبح فجر کی نماز کے وقت راستہ سنسان ہے، میرے گھر میں ایک کمرہ کو مصلے کی شکل دے دی گئی ہے، فجر کے وقت ہم گھر والے جماعت سے وہاں نماز پڑھتے ہیں اور کبھی باقی نمازیں بھی وہاں جماعت سے پڑھتے ہیں، فجر کے علاوہ باقی چار نمازیں اکثر مسجد میں سواری پہ جا کر پڑھتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز پڑھنے کے لئے ایسے امام کانتخاب کرنا چاہیے، جو صحیح العقیدہ ہو، اگر کبھی ایسی نوبت آجائے کہ کسی ایسے امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنی پڑے، جس کے عقائد کفر وشرک کی حد تک تو نہ پہنچے ہوں، لیکن وہ مختلف بدعات کا مرتکب ہو، تو جماعت ترک کرنے سے بہتر ہے کہ اس امام کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے، تاکہ جماعت کے ثواب سے محرومی نہ ہو، البتہ مستقل طور پر ایسے امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، کسی صحیح العقیدہ نیک امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
و فى الدر المختار:

(ﻭﻣﺒﺘﺪﻉ) ﺃﻱ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺪﻋﺔ ﻭﻫﻲ اﻋﺘﻘﺎﺩ ﺧﻼﻑ اﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﻋﻦ اﻟﺮﺳﻮﻝ

(ج:١، ص: ٥٦٠، ط: دار الفكر بيروت )

وفيه أيضا:

ﻭﻓﻲ اﻟﻨﻬﺮ ﻋﻦ اﻟﻤﺤﻴﻂ: ﺻﻠﻰ ﺧﻠﻒ ﻓﺎﺳﻖ ﺃﻭ ﻣﺒﺘﺪﻉ ﻧﺎﻝ ﻓﻀﻞ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ
و فی الشامیة تحتہ
(ﻗﻮﻟﻪ ﻧﺎﻝ ﻓﻀﻞ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ) ﺃﻓﺎﺩ ﺃﻥ اﻟﺼﻼﺓ ﺧﻠﻔﻬﻤﺎ ﺃﻭﻟﻰ ﻣﻦ اﻻﻧﻔﺮاﺩ

(ج:١، ص:٥٦٢، ط: دار الفكر بيروت )

و فی الھندیة:
ولو صلی خلف مبتدع أو فاسق فہو محرز ثواب الجماعۃ؛ لکن لاینال مثل ما ینال خلف تقي۔ کذا في الخلاصۃ۔

(ج:١، ص: ٨٤، ط: دار الفكر بيروت )


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.co


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6298


فتوی پرنٹ