1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

قبلہ کی سمت کا علم نہ ہونے کی صورت میں پڑھی گئی نماز کا حکم

سوال

ہماری والدہ ہسپتال میں تھیں، ہم نے غلطی سے قبلہ کے خلاف منہ کر کے نماز پڑھی، کیا ہماری نماز ہوگئیں یا دہرانی ہوگی؟

جواب

قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا نماز کی شرائط میں سے ہے، اگر کسی شخص کو قبلہ رخ کا علم نہ ہو، تو نماز شروع کرنے سے پہلے اسے وہاں موجود لوگوں سے قبلہ رخ معلوم کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کے علاوہ دوسرے ذرائع سے قبلہ رخ معلوم کرنے کی کوشش کرے، اگر قبلہ معلوم کرنے کا کوئی بھی ذریعہ نہ ہو تو پھر خود ہی تحری (غور وفکر) کرنے کے بعد کسی ایک طرف قبلہ متعین کرکے اس طرف رخ کرکے نماز پڑھ لے، تو نماز ہو جائے گی، لیکن اگر بغیر غور وفکر کے کسی ایک رخ پر نماز پڑھ لی، یا قبلہ معلوم کرنے کے ذرائع موجود ہونے کے باوجود بغیر کسی سے پوچھے، خود ہی نماز کسی غلط رخ پر پڑھ لی تو نماز درست نہیں ہوگی، بعد میں اس کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کے لیے ہسپتال میں کسی سے پوچھ کر قبلہ رخ کا پتہ کرنا ممکن تھا، لیکن آپ نے کسی سے پوچھے بغیر یعنی "تحری" کیے بغیر، غلط رخ پر نمازیں ادا کیں ہیں، جسکی وجہ سے آپ کی وہ نمازیں ادا نہیں ہوئیں، لہذا آپ کو وہ تمام نمازیں لوٹانا ضروری ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل


کذا فی نور الایضاح:

فإن شرع بلا تحر فعلم بعد فراغہ أنہ أصاب صحت وإن علم بإصابۃ فیہا فسدت۔

(نور الإیضاح : ص:69)

کذا فی الشامیۃ:

وإن شرع بلا تحر لم یجز وإن أصاب؛ إلا إذا علم أصابتہ بعد فراغہ فلا یعید اتفاقاً۔
بخلاف صورۃ عدم التحري فإنہ لم یعتقد الفساد؛ بل ہو شاک فیہ وفي عدمہ فإذا ظہرت أصابتہ بعد التمام زال أحد الاحتمالین وتقرر الاٰخر بلا لزوم بناء القوی علی الضعیف بخلاف ما إذا علم الإصابۃ قبل التمام۔

(درمختار مع الشامي ج:2 ص:106)

کذا فی البحر

وقید بالتحري لأن من صلّی ممن اشتبہت علیہ بلا تحرّ فعلیہ الإعادة.

(البحر الرائق: ج:1 ص:501)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6149


فتوی پرنٹ