1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

کرسی پر نماز پڑھنا

سوال

جناب محترم مفتی صاحب ! جو مرد یا عورت چل پھر سکتے ہوں اور کھڑے بھی ہو سکتے ہوں، لیکن گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے نماز کرسی پر پڑھتے ہوں، ان کے لیے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ ارشاد فرما دیں۔

جواب

(1) جو شخص کھڑے ہونے پر قادر ہو، اور سجدہ نہ کر سکتا ہو، تو اسے قرأت کھڑے ہوکر ہی کرنی چاہیے، اور اگر رکوع پر بھی قادر ہے، تو رکوع بھی باقاعدہ کرنا چاہیے، البتہ سجدے کے وقت بیٹھ جائے، اور اشارہ سے سجدہ کرے، اس کے بعد اگر دوسری رکعت کے لئے اٹھنے پر قادر ہو، تو دوسری رکعت کے لیے بھی اٹھ جائے، اور اگر اس میں سخت مشقت ہو، تو باقی نماز بیٹھ کر اشارے سے ادا کر لے۔

(2) اگر کوئی شخص کھڑے ہوکر رکوع و سجدہ کے ساتھ نماز ادا نہ کرسکے، تو بیٹھ کر رکوع و سجدے کے ساتھ نماز ادا کرے، اور دونوں ہاتھ زانوؤں پر رکھے، اگر بیٹھ کر رکوع و سجدہ نہیں کرسکتا، لیکن بیٹھ کر رکوع و سجدہ اشارے سے کرسکتا ہے، تو قبلہ رخ بیٹھ کر نماز پڑھے، اور رکوع و سجدہ اشارے سے کرے، سجدے کا اشارہ رکوع کے مقابلے میں زیادہ کرے۔


................
دلائل:

کما فی الفتح القدیر مع الکفایۃ:

هذا مبني على صحۃ المقدمۃ القائلة رکنیۃ القیام لیس الا للتوسل الی السجود وقد اثبتھا بقولہ "لما فیھا من زیادۃ التعظیم" اي السجدۃ علی وجہ الانحطاط من القیام فیھا نھایۃ التعظیم وھو المطلوب فکان طلب القیام لتحقیقہ فاذا سقط سقط ما وجب لہ وقد یمنع ان شرعیتہ لھذا علی وجہ الحصر، بل لہ ولما فیہ نفسہ من التعظیم، کما یشاھد من الشاھد من اعتبارہ کذلک حتی یحبہ اھل التحبر لذلک، فاذا فات احد التعظیمین، صار مطلوبا بما فیہ نفسہ ویدل علی نفی ھذہ الدعوی ان من قدر علی القعود والرکوع والسجود لا القیام وجب علیہ القعود، مع انہ لیس فی السجود عقبیہ تلک النھایۃ، لعدم مسبوقیتہ بالقیام

(ج1، ص460)


کما فی اعلاء السنن:

ان رکنیۃ القیام قد ثبت بالنص، وهو قوله تعالى "وقوموا لله قانتين" وقوله صلى الله عليه وسلم لعمران: صل قائما فان لم تستطيع فقاعدا، وبلاجماع فلا يسقط وجوبه عن القادر عليه بالقياس الذين ذكرتموہ فان القياس اضعف الدلائل لا يجوز معارضتہ القطعی لہ۔

(ج7، ص201)

کما فی مجمع الانھار:

الإیماء برأسه أخرت الصلاة فلا سقط عنه؛ بل یقضیها إذا قدر علیها، ولوکانت أکثر من صلاة یوم ولیلة إذا کان مضیقًا وهو الصحیح، کما في الهدایة. وفي الخانیة: الأصح أنه لایقضي أکثر من یوم ولیلة کالمغمیٰ علیه، وهو ظاهر الروایة، وهذا اختیار فخر الإسلام، وشیخ الإسلام. وفي الخلاصة: وهو المختار؛ لأن مجرد العقل لایکفي لتوجه الخطاب. وفي التنویر: وعلیه الفتویٰ، ولایومئ بعینیه ولابحاجبیه ولابقلبه؛ لما روینا، وفیه خلاف زفر".

( کتاب الصلاة، باب صلاة المریض،
ج1، ص229، دار الکتب العلمیة بیروت)

(مستفاد از فتاوی دارالعلوم کراچی، فتوی نمبر: 41/1508)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6147


فتوی پرنٹ