1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. میت و جنازہ

کیا میت کو غسل دیتے وقت اس کا پلاسٹر اتارنا ضروری ہے؟

سوال

اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے، اور اس کے ہاتھ یا پاؤں وغیرہ پر پلاسٹر بندھا ہوا ہو، تو کیا غسل دیتے وقت اس پلاسٹر کو اتارنا ضروری ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کے ہاتھ یا پاؤں وغیرہ پر پلاسٹر بندھا ہوا ہو اور اس کا انتقال ہو جائے، تو اب چونکہ پلاسٹر کی ضرورت باقی نہیں رہی، لہذا پلاسٹر اتارکر غسل دیا جائے، اور اگر پلاسٹر اتارنے کی صورت میں خون جاری ہونے کا یا گوشت وغیرہ الگ ہوجانے کا امکان ہو، تو پلاسٹر نہ اتارا جائے، اور اسی پر غسل دیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الدر المختار مع رد المحتار:

(ويمسح) نحو (مفتصد وجريح على كل عصابة) مع فرجتها في الأصح (إن ضره) الماء (أو حلها) ومنه أن لا يمكنه ربطها بنفسه ولا يجد من يربطها.

(قوله إن ضره الماء) أي الغسل به أو المسح على المحل۔۔۔۔إذ الثابت بالضرورة يتقدر بقدرها.

(ج: 1، ص: 280، ط: دار الفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6025


فتوی پرنٹ