1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

موبائل سے تلاوت سننے پر سجدہ تلاوت کا حکم

سوال

خواتین صبح کے وقت گھروں میں قرآن پاک کی تلاوت موبائل میں لگا کر سننتی رہتی ہیں اور اس دوران گھر کے کام کاج بھی کرتی رہتی ہیں، جس میں بعض مرتبہ سجدہ والی آیات بھی آجاتی ہے، کیا اس طرح تلاوت کرنا درست ہے، اور اس عمل سے گناہگار تو نہیں ہونگی؟

جواب

١۔ موبائل فون وغیرہ سے(لائیو) براہ راست آڈیو یا ویڈیو نشر کی جانے والی تلاوت میں اگر آیت سجدہ آجائے، تو سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہے، لیکن اگر پہلے سے ریکارڈ شدہ تلاوت سنی جائے تو سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا ہے۔

موبائل کے ذریعہ لگائی جانے والی تلاوت کے دوران خاموش رہنا اور اسے غور سے سننا اگرچہ واجب نہیں ہے، تاہم موبائل پر تلاوت لگی ہو تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اسے سنا جائے، نہ سننا خلافِ ادب ہے، کیونکہ عموما کام میں مصروف رہ کر تلاوت کی طرف دھیان نہیں رہتا ہے، اس لیے کام کرتے ہوئے موبائل پر تلاوت نہ لگانا بہتر ہے، البتہ اگر کوئی کام کرنے کے ساتھ ساتھ خاموشی سے تلاوت سنے اور توجہ تلاوت کی طرف ہو تو اس کی گنجائش ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی الھدایة:

"والسجدۃ واجبة في ہذہ المواضع علی التالي والسامع سواء قصد سماع القرآن أولم یقصد لقوله علیه السلام السجدۃ علی من سمعها وعلی من تلاها۔

( کتاب الصلاۃ، باب في سجود التلاوۃ، ج:١، ص: ٧٨، ط: دار احياء التراث العربي )


وفی بدائع الصنائع:

وأما سبب وجوب السجدة فسبب وجوبها أحد شيئين: التلاوة، أو السماع كل واحد منهما على حاله موجب فيجب على التالي الأصم والسامع الذي لم يتل.
أما التلاوة فلا يشكل وكذا السماع لما بينا أن الله تعالى ألحق اللائمة بالكفار لتركهم السجود إذا قرئ عليهم القرآن بقوله تعالى {فما لهم لا يؤمنون} [الانشقاق: 20] {وإذا قرئ عليهم القرآن لا يسجدون} [الانشقاق: 21] ، وقال تعالى {إنما يؤمن بآياتنا الذين إذا ذكروا بها خروا سجدا} [السجدة: 15] الآية، من غير فصل في الآيتين بين التالي والسامع، وروينا عن كبار الصحابة - رضي الله عنهم - السجدة على من سمعها ولأن حجة الله تعالى تلزمه بالسماع كما تلزمه بالتلاوة فيجب أن يخضع لحجة الله تعالى بالسماع كما يخضع بالقراءة.

(کتاب الصلاۃ، فصل في سبب وجوب الصلاۃ، ج١، ص: ١٨٠، ط: دارالکتب العلمية )

وفی البدائع ایضا:

بخلاف السماع من الببغاء والصدى فإن ذلك ليس بتلاوة وكذا إذا سمع من المجنون؛ لأن ذلك ليس بتلاوة صحيحة لعدم أهليته لانعدام التمييز.

( ج١، ص: ١٨٦، ط: دارالکتب العلمية )



و فی التفسیر المظهری:

اختلف العلماء فى وجوب الاستماع والإنصات على من هو خارج الصلاة يبلغه

صوت من يقرأ القران فى الصلاة او خارجها قال البيضاوي عامة العلماء على استحبابها خارج الصلاة وقال ابن همام وفى كلام أصحابنا ما يدل على وجوب الاستماع فى الجهر بالقراءة مطلقا قال فى الخلاصة رجل يكتب الفقه وبجنبه يقرأ القران فلا يمكنه استماع القران فالاثم على القاري وعلى هذا لو قرأ على السطح فى الليل جهرا والناس نيام يأثم وهذا صريح فى اطلاق الوجوب ولان العبرة لعموم اللفظ دون خصوص السبب.

(ج:٣، ص: ٤٥١،ط:مكتبة الرشدية)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6111


فتوی پرنٹ