1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نماز

جس مریض کو مسلسل پیشاب آتا ہو، ایسے مریض کی نماز کا شرعی حکم

سوال

مفتی صا حب ! ایک معذورعورت و یل چیئر پر ہے اور اس کو پیشاب کی بیماری بھی ہے، شوہر بھی اس کا فوت ہوگیا ہے، بیٹا بہت چھوٹا ہے، دو بیٹیاں تھوڑی بڑی ہیں، مطلب اس کو صحیح سنبھالنے والا کوئی خاص نہیں ہے، اس کو پیشاب کی بیماری کی وجہ سے نماز پڑھنے میں دشواری ہے، تو کسی قاری صاحب نے ان سے کہا ہے کہ آپ روزے ر کھ لیا کریں، یہ آپ کی نمازوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ جبکہ ہم نے سنا ہے کہ جو نمازیں عذر کی وجہ سے چھوٹ جائیں اور پھر نہ پڑھ سکیں، اس کے کفارے کے طور پر پیسے دئیے جاتے ہیں، تو کیا صورت مسئولہ میں قاری صاحب کی بات صحیح ہے یا کفارہ دینا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر پیشاب خارج ہونے کا دورانیہ اس تسلسل کے ساتھ ہو کہ مریض کو نماز کے پورے وقت میں اتنا موقع نہیں مل پاتا، جس میں وہ وضو کرکے فرض نماز بغیر عذر کے ادا کرسکے، تو ایسا مریض معذور کے حکم میں داخل ہے، اور معذور شخص کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے وقت کیلئے نیا وضو کرے، اور اس وضو سے فرض، سنن اور نوافل، جتنے چاہے ادا کرے، اس دوران پیشاب کے نکلنے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اور جب اس نماز کا وقت نکل جائے ، تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اور دوسرے وقت کے نماز کے لئے نیا وضو کرنا لازم ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ میں عورت پر نماز فرض ہے، فدیہ دینے سے نماز ساقط نہیں ہوگی۔
اگر یہ مریضہ زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، تو ایسی صورت میں وہیل چئیر پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی بدائع الصنائع :

(ﻭﺃﻣﺎ) اﻟﺴﻨﺔ ﻓﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ ﻋﺎﻡ ﺣﺠﺔ اﻟﻮﺩاﻉ: «اﻋﺒﺪﻭا ﺭﺑﻜﻢ، ﻭﺻﻠﻮا ﺧﻤﺴﻜﻢ، ﻭﺻﻮﻣﻮا ﺷﻬﺮﻛﻢ، ﻭﺣﺠﻮا ﺑﻴﺖ ﺭﺑﻜﻢ، ﻭﺃﺩﻭا ﺯﻛﺎﺓ ﺃﻣﻮاﻟﻜﻢ ﻃﻴﺒﺔ ﺑﻬﺎ ﺃﻧﻔﺴﻜﻢ، ﺗﺪﺧﻠﻮا ﺟﻨﺔ ﺭﺑﻜﻢ» .

ﻭﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﺑﻦ اﻟﺼﺎﻣﺖ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ - ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ «ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﺮﺽ ﻋﻠﻰ ﻋﺒﺎﺩﻩ اﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻳﻮﻡ ﻭﻟﻴﻠﺔ ﺧﻤﺲ ﺻﻠﻮاﺕ» ﻭﻋﻦ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﺃﻳﻀﺎ ﺃﻧﻪ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ - ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻳﻘﻮﻝ: «ﺧﻤﺲ ﺻﻠﻮاﺕ ﻛﺘﺒﻬﻦ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻠﻰ اﻟﻌﺒﺎﺩ ﻓﻤﻦ ﺃﺗﻰ ﺑﻬﻦ ﻭﻟﻢ ﻳﻀﻴﻊ ﻣﻦ ﺣﻘﻬﻦ ﺷﻴﺌﺎ اﺳﺘﺨﻔﺎﻓﺎ ﺑﺤﻘﻬﻦ؛ ﻓﺈﻥ ﻟﻪ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﻬﺪا ﺃﻥ ﻳﺪﺧﻠﻪ اﻟﺠﻨﺔ، ﻭﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﺄﺕ ﺑﻬﻦ؛ ﻓﻠﻴﺲ ﻟﻪ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﻬﺪ، ﺇﻥ ﺷﺎء ﻋﺬﺑﻪ؛ ﻭﺇﻥ ﺷﺎء ﺃﺩﺧﻠﻪ اﻟﺠﻨﺔ» ، ﻭﻋﻠﻴﻪ ﺇﺟﻤﺎﻉ اﻷﻣﺔ؛ ﻓﺈﻥ اﻷﻣﺔ ﺃﺟﻤﻌﺖ ﻋﻠﻰ ﻓﺮﺿﻴﺔ ﻫﺬﻩ اﻟﺼﻠﻮاﺕ۔

(ج : 1، ص : 90، ط : دار الکتب العلمیة)

وفی الفتاوی الھندیة :

المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق۔

ويبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح.

(ج: 1، ص: 41، ط: دار الفکر)

وفی بدائع الصنائع :*

(وأما) أصحاب الأعذار كالمستحاضة، وصاحب الجرح السائل، والمبطون ومن به سلس البول، ومن به رعاف دائم أو ريح، ونحو ذلك ممن لا يمضي عليه وقت صلاة إلا، ويوجد ما ابتلي به من الحدث فيه فخروج النجس من هؤلاء لا يكون حدثا في الحال ما دام وقت الصلاة قائما، حتى أن المستحاضة لو توضأت في أول الوقت فلها أن تصلي ما شاءت من الفرائض، والنوافل ما لم يخرج الوقت، وإن دام السيلان.

(ج: 1، ص: 27، ط: دار الکتب العلمیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :6084


فتوی پرنٹ