1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. میت و جنازہ

کیا ایصال ثواب کرنے والے کو بھی ثواب ملتا ہے؟

سوال

السلام علیکم، ہم جو کسی میت کو ایصال ثواب کرتے ہیں، کیا اسکا ثواب ہمیں بھی ملتا ہے؟

جواب

کوئی بھی نیک عمل کسی مسلمان(زندہ ، مردہ) کو ایصالِ ثواب پہنچانے کی نیت سے کرنا جائز ہے اور اس کا ثواب اس مسلمان کو پہنچتا بھی ہے اور ساتھ ساتھ ایصالِ ثواب عمل کرنے والے کے نامہ اعمال میں بھی اس کا ثواب لکھا جاتا ہے، وہ عمل کرنے والا اس اجر سے محروم نہیں رہتا ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے:

"وعن عبد اللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا تصدق بصدقة تطوعاً أن یجعلها عن أبویه فیکون لهما أجرہها ولا ینتقص من أجرہ شیئاً"

رواہ الطبرانی فی الأوسط وفیہ خارجۃ بن مصعب الضبي وہو ضعیف۔

(مجمع الزوائد ، باب الصدقۃ علی المیت ، حدیث نمبر: ۴۷۶۹، ج:۳، ص:۳۳۵،ط:دارالفکر)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب بھی کوئی مسلمان نفلی صدقہ کرتا ہے کہ اس کا ثواب اپنے والدین کو پہنچائے تو ان دونوں کو اس کا اجر ملتا ہے اور اس (صدقہ کرنے والے) کے اجر میں سے کوئی بھی کمی نہیں کی جائے گی۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ

”جو شخص قبرستان سے گزرا اور قبرستان میں گیارہ مرتبہ
" قل ھو اللہ" شریف پڑھ کر مُردوں کو اس کا ایصالِ ثواب کیا تو اسے مُردوں کی تعداد کے مطابق ثواب عطا کیا جائے گا۔”

(کنز العمال،ج:۱۵ ص:۶۵۵ ،حدیث نمبر:۴۲۵۹۵،ط: مؤسسة الرسالة)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفي کنز العمال:

“من مر علی المقابر فقرأ فیھا احدی عشرة مرة قل ھو الله احد ثم وھب اجرہ للأموات اعطی من اجر بعددالأموات۔” (الرافعی، عن علی)


(ج:۱۵ ص:۶۵۵ ،حدیث نمبر:۴۲۵۹۵،ط: مؤسسة الرسالة)

وفي الشامية:

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغیر بأنّ للإنسان أن یجعل ثواب عمله لغیره صلاةً أو صومًا أو صدقةً أو غیرها، كذا في الهدایة. بل في زكاة التتارخانیة عن المحیط: الأفضل لمن یتصدّق نفلًا أن ینوي لجمیع المؤمنین و المؤمنات؛ لأنّها تصل إلیهم، ولاینقص من أجره شيءٍ اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة.

(ج:٢،ص:٢٤٣،ط: دار الفكر بيروت )


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5954


فتوی پرنٹ