1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. کھانے پینے میں حلال و حرام

مسلمان ممالک کے ہوٹلوں اور لیبر کیمپوں میں گوشت کھانے کا شرعی حکم

سوال

السلام علیکم، کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ موجودہ دور میں ہوٹل وغیرہ سے چکن، مٹن، بیف گوشت کے کھانے کا کیا حکم ہے، یا جو لوگ پردیس میں لیبر کیمپوں میں رہتے ہیں، اور وہاں پر میس سسٹم ہوتا ہے، وہاں پر پکنے والے گوشت کے متعلق کیا حکم ہوگا، بالخصوص عرب ممالک کے بارے میں جواب درکار ہے۔ ایک شخص ایسے گوشت کھانے والے کو حرام کا مرتکب قرار دیتا ہے اور حوالہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا پیش کرتا ہے۔

جواب

مسلمانوں کے ملک میں جب تک اس بات کا یقین نہ ہو کہ ذبیحہ مسلمان کا نہیں ہے، اور جب تک اس بات کا یقین نہ ہو کہ مسلمان نے جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑی ہے، اس وقت تک مسلمان ملک کا ذبیحہ حلال ہوگا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

قال اللہ تعالی :

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿البقرۃ :١٧٣﴾

قال اللہ تعالی :

وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتَابَ حِلٌّ لَکُمْ۔ (المائدہ: ۵)

کذا فی صحیح البخاری :

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ تَرَكَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللَّهِ، مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ "۔

( رواہ البخاری فی کتاب البیوع ، رقم الحدیث : ٢٠۵١)

انعام الباری میں ہے :

جہاں شبہات ناشی عن دلیل ہوں،وہاں شبہات سے بچنا مستحب ہے یا واجب؟ اس کا اصول یہ ہے کہ اگر اشیاء میں اصل اباحت ہو اور حرمت کا شبہ پیدا ہوجائے اور وہ شبہ ناشی عن دلیل ہو، تو اس شبہ کے نتیجے میں اس مباح چیز کا ترک کرنا واجب نہیں ہوتا، بلکہ مستحب ہوتا ہے اور تقوی کا تقاضا ہوتا ہے۔ اور اگر اصل اشیاء میں حرمت ہو اور پھر شبہ پیدا ہوجائے اور شبہ ناشی عن دلیل ہو، تو اس صورت میں اس شبہ سے بچنا واجب ہے، محض مستحب نہیں۔

(انعام الباری: ٦/٨٣)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)

http://AlikhlasOnline.com


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5994


فتوی پرنٹ