1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. دیگر متفرقات

ماہ شعبان سے متعلق دینی تعلیمات

سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب ! قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ پندرہ شعبان کی کیا اہمیت ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مسنون ہے؟

جواب


ماہ شعبان کے فضائل سے متعلق احادیث کی اسنادی حیثیت، مسائل اور بدعات و خرافات

شعبان اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے، ماہ شعبان کو شعبان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ شعب یشعب سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے "نکلنا، ظاہر ہونا، پھوٹنا"، چونکہ اس مہینے میں خیر کثیر ظاہر ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس مہینہ کا نام شعبان رکھ دیا گیا۔
(غیاث الغات: ص، ۴١٠، مکتبہ، قدیمی کتب خانہ)

ماہ شعبان کے فضائل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ.
ماہِ رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے۔
( کنزالعمال: ج، ٨، ص، ٢١٧، حدیث نمبر، ٢٣٦٨۵)

ماہ شعبان کو رسول اللہ نے اپنا مہینہ قرار دیا اور اس کو اپنی جانب منسوب کیا ہے، اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو مہینہ حضور علیہ السلام کا ہوگا، وہ عظمت و بزرگی میں کس قدر غیر معمولی مقام رکھتا ہوگا۔

شعبان کی اسی اہمیت کے پیش نظر اصحاب کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین شعبان کا چاند دیکھتے ہی پہلے سے زیادہ عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوة والسلام کے جلیل القدر اصحاب شعبان کا چاند دیکھتے ہی قرآن کریم کی (عام دنوں سے زیادہ) تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے، مسلمان اس مہینے میں اپنے مال کی زکوة نکالا کرتے تھے، تاکہ غریب اور مسکین لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔
(غنیة الطالبین مترجم: ص، ٣۵٦، نعمانی کتب خانہ)

ماہ شعبان کے مسائل:

شب براءت کے متعلق احادیث اور ان کی اسنادی حیثیت

واضح رہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ شبِ برات کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکار ہیں، کچھ لوگ تو سرے سے اس کی فضیلت ہی کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اس کی فضیلت سے متعلق تمام احادیثِ مبارکہ کو ضعیف یا موضوع(من گھڑت ) سمجھتے ہیں، جبکہ بعض لوگ اس کی فضیلت کے تو قائل ہیں، لیکن انہوں نے بہت ساری رسومات و بدعات کو بھی اِس رات کی عبادت کا ایک حصہ بنالیا ہے۔
یہ دونوں فریق راہ اعتدال سے دور ہیں۔

پندرھویں شعبان کی فضیلت کے بارے میں راہ اعتدال یہ ہے کہ اس بارے میں تقریبا 17 صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم اجمعین سے روایات مروی ہیں، جن میں کچھ تو سند کے اعتبار سے انتہائی کمزور درجے کی ہیں اور کچھ روایات کم درجہ ضعیف ہیں اور بعض احادیث حسن درجے کی ہیں۔
محدثین کے اصول کے مطابق مجموعی اعتبار سے ان احادیث کے تمام طرق ملانے سے ان احادیث کا مضمون صحیح لغیرہ بن جاتا ہے اور اگر تمام طرق ضعیف مان لیے جائیں تو بھی محدثین کے قواعد کے مطابق یہ احادیث حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچتی ہیں۔
ان روایات میں سے چار روایات کو ذکر کیا جاتا ہے، جو سند کے اعتبار سے مضبوط ہیں۔

(1) معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت:
معَاذ بن جبل سے روایت ہے: عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ يطلع الله إِلَى جَمِيع خلقه لَيْلَة النّصْف من شعْبَان فَيغْفر لجَمِيع خلقه إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَو مُشَاحِن۔
(الترغیب و الترھیب للمنذری :ج :3،ص: 307، ط: دار الكتب العلمية)

ترجمہ:
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات ( اپنے بندوں پر ) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور ( مسلمان بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔

اس روایت کو درج ذیل کتب میں ذکر کیا گیا ہے:
المعجم الکبیر للطبرانی(ج:20،ص: 108،)شعب الایمان للبیھقی(ج: ص: ط: مکتبہ الرشد)، صحیح ابن حبان(ج:12،ص: 482،ط: موسسةالرسالة)،فضائل الاوقات للبھیقی(ص: ،ط: مکتبة المنارة).

مذکورہ بالا روایت کی اسنادی حیثیت
علامہ منذری نے" الترغيب و الترھیب" میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے :
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيّ فِي الْأَوْسَط وَابْن حبَان فِي صَحِيحه وَالْبَيْهَقِيّ وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه بِلَفْظِهِ من حَدِيث أبي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ وَالْبَزَّار وَالْبَيْهَقِيّ من حَدِيث أبي بكر الصّديق رَضِي الله عَنهُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَاد لَا بَأْس بِهِ
(ج :3،ص: 307، ط: دار الكتب العلمية)

ترجمہ:
اس روایت کو طبرانی نے اوسط میں اور ابن حبان نے اپنی صحیح ابن حبان اور بیھقی نے شعب میں ذکر کیا ہے اور ابن ماجہ نے انہیں الفاظ کے ساتھ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور مسند بزار اور بیھقی نے اسی طرح ابوبکر صدیق کی روایت کو بھی ایسی ہی سند سے ذکر کیا ہے، جس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

علامہ ھیثمی نے اس روایت کے رجال کو ثقہ قرار دیا ہے۔
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ(مجمع الزوائد للنور الدين الهيثمي، ج: 6 ص:65،ط: مكتبة القدسي)

علامہ ناصر الدین البانی نے السنة للابن ابی عاصم کے حاشیہ میں اس حدیث کی سند پر کلام کرتے ہوئے اس کو صحیح کہا ہے۔
حديث صحيح ورجاله موثقون لكنه منقطع بين مكحول ومالك بن يخامر ولولا ذلك لكان الإسناد حسنا ولكنه صحيح بشواهده المتقدمة وهو مخرج في "الصحيحة" كما سبقت الإشارة إلى ذلك.
(ج:1،ص: 223،ط: المکتب الاسلامی بیروت )

علامہ ناصر الدین البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اس حدیث کرنے کے بعد فرمایا:
حديث صحيح، روي عن جماعة من الصحابة من طرق مختلفة يشد بعضها بعضا وهم معاذ ابن جبل وأبو ثعلبة الخشني وعبد الله بن عمرو وأبي موسى الأشعري وأبي هريرة وأبي بكر الصديق وعوف ابن مالك وعائشة.۔۔۔۔ وجملة القول أن الحديث بمجموع هذه الطرق صحيح بلا ريب والصحة تثبت بأقل منها عددا ما دامت سالمة من الضعف الشديد كما هو الشأن في هذا الحديث
(ج:٣ ص:١٣٦ ط:مكتبة المعارف)

ترجمہ:
یہ حدیث صحیح ہےاور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے متعدد طرق سے مروی ہے، جو طرق ایک دوسرے کو قوت بخشتے ہیں،وہ حضرات یہ ہیں: معاذبن جبل،أبو ثعلبة الخشني ،عبد الله بن عمرو، أبو موسى الأشعري، أبو هريرة،أبو بكر الصديق ،عوف ابن مالك اورعائشة رضوان اللہ تعالی عنھم اجمعین اور پھر ان حضرات کی احادیث کی تخریج ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
یہ حدیث ان متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے بالکل صحیح ہے اور حدیث کی صحت تو عدد کے اعتبار سے اس سے کم سندوں سے بھی ثابت ہوجاتی ہے۔

(2) حضرت ابوثعلبہ کی روایت:
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وجل إلى خلقه فيغفرلِلْمُؤْمِنِينَ وَيَتْرُكُ أَهْلَ الضَّغَائِنِ وَأَهْلَ الحقد بحقدهم".
("شعب الإيمان للبيهقي:(5/359)3551:، "فضائل الاوقات للبیھقی":120،مکتبةالمنار، "المعجم الكبير للطبراني":223/22، السنة للابن أبي عاصم":224/1المكتب الاسلامي)
ترجمہ :
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ’’جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔‘‘
علامہ البانی نے"السنة للابن أبي عاصم" کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(تفصیل کےلیے دیکھیے، السنة للابن أبي عاصم":224/1المكتب الاسلامي )

(3) حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت:
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:1390)
ترجمہ:
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات ( اپنے بندوں پر ) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور ( مسلمان بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔
علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔(تفصیل کےلیے دیکھیے، السنة للابن أبي عاصم":224/1المكتب الاسلامي )

مشہور غیر مقلد عالم ”علامہ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ “ سنن ترمذی کی شرح میں پندرھویں شعبان سے متعلق روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ وَرَدَ فِي فَضِيلَةِ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ عِدَّةُ أَحَادِيثَ مَجْمُوعُهَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ لَهَا أَصْلًا۔۔۔۔ فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ بِمَجْمُوعِهَا حُجَّةٌ عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ فِي فَضِيلَةِ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ شَيْءٌ۔
(تحفة الاحوذی، باب ما جاء فی لیلة النصف من شعبان: ج:3،ص: 365،ط: دار الكتب العلمية)

ترجمہ:
پندرھویں شعبان کی فضیلت کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں، جن کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان روایات کی اصل موجود ہے۔اور یہ تمام حدیثیں مجموعی اعتبار سے اس شخص کے خلاف حجت ہیں،جس نے گمان کیا کہ پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔


(4) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایت :
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرناالحجاج بن ارطاة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة، عنعائشة، قالت: فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة، فخرجت فإذا هو بالبقيع، فقال: " اكنت تخافين ان يحيف الله عليك ورسوله؟ " قلت: يا رسول الله، إني ظننت انك اتيت بعض نسائك، فقال: " إن الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا، فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب ". وفي الباب عن ابي بكر الصديق. قال ابو عيسى: حديث عائشة لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج، وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث، وقال يحيى بن ابي كثير: لم يسمع من عروة، والحجاج بن ارطاة، لم يسمع من يحيى بن ابي كثير.
(سنن الترمذي حدیث نمبر:739۔ سنن ابن ماجه: حديث نمبر: 1379،وأحمدحديث نمبر: 26018، شعب الإيمان حديث نمبر: 3825)
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں (آپ کی تلاش میں)باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“۔

حدیث عائشہ کی اسنادی حیثیت
حضرت عائشہؓ کی یہ حدیث الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ سے مروی ہے اور الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَاگرچہ ضعیف روای ہے، لیکن ان کا ضعف حفظ کی جہت سے ہے، نہ کہ کذب کی جہت سے، اس لیے یہ روایت دوسری اسناد سے مل کر حسن کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔


خلاصہ کلام:
پندرھویں شعبان کی فضیلت سے متعلق روایات کثرت طرق کی بناء پر حسن لغیرہ(قابل قبول ) ہیں اور امت مسلمہ کا ابتدا سے اس پر عمل رہا ہے،
چنانچہ ان روایات کے پیشِ نظر اہلسنت والجماعت ہمیشہ سے شعبان کی پندرہویں شب یعنی شب براءت کی فضیلت و بزرگی کا اعتقاد رکھتے چلے آئے ہیں۔
چنانچہ علامہ علاوالدین الحصکفی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں شب میں رات کو جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے۔
(الدر المختار: ص، ٩٢، مکتبہ، دارالکتب العلمیہ)

یہاں یہ بات ضرور پیش نظر رہے کہ اگرچہ شب براءت انتہائی فضیلت والی رات ہے اور فقہاء کرام رحمھم اللہ نے اس رات میں جاگ کر عبادت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن اس رات میں کوئی خاص عبادت مقرر نہیں ہے۔

اس بارے میں حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی العثمانی دامت برکاتھم العالیہ کا قول ملاحظہ ہو:
"اس رات میں جاگنا، اس میں عبادت کرنا باعث اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے، البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقہ سے عبادت کی جائے، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے، وہ اس رات میں انجام دی جائیں، نفلی نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، ذکر کریں، تسبیح پڑھیں، دعائیں کریں، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جا سکتی ہیں، لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔

شب براءت میں قبرستان جانا
اس رات میں ایک اور عمل ہے، جو ایک روایت سے ثابت ہے، وہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے تھے، اس لیے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شب براءت میں قبرستان جائیں، لیکن جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہو، اسے اسی درجہ میں رکھنا چاہیے، اس سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے، اور چونکہ ساری حیات طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دفعہ جنت البقیع میں جانا ثابت ہے، اس لیے اگر کوئی ایک دفعہ اس نیت سے چلا جائے تو ٹھیک ہے، لیکن ہر شب براءت میں جانے کا اہتمام کرنا، اس کو ضروری سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ اس کے بغیر شب براءت نہیں ہوئی، یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے، لہذا اگر کبھی کوئی شخص اس نیت سے قبرستان چلا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے، لہذا میں بھی آپ علیہ السلام کی اتباع میں جا رہا ہوں تو ان شاء اللہ اجر و ثواب ملے گا، اس کے ساتھ کسی سال ناغہ بھی کر لیا جائے، ہر سال اہتمام کے ساتھ جانے کی پابندی نہ کی جائے۔ لیکن اس موقع پر قبرستان میں چراغاں کرنا، قوالیاں گانا، عورتوں اور مردوں کا مخلوط اجتماع یا اسی طرح کی خرافات و بدعات کرنا شرعا ناجائز ہے اور شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

پندرہ شعبان کا روزہ
سارے ذخیرہ احادیث میں اس روزے کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب براءت کے بعد والے دن روزہ رکھو، اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن چونکہ فضیلت ضعیف روایت سے بھی ثابت ہوجاتی ہے اور یہ دن ایام بیض میں سے بھی ہیں(ایام بیض سے مراد ہر ماہ کی ١٣ ،١۴، اور ١۵ تاریخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ ان تین دنوں میں روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے) اس لیے نفل روزے کی نیت سے پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے، البتہ اس دن کے روزے کو باقاعدہ سنت قرار دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

شب براءت اور حلوہ
ویسے تو سارے سال میں کسی دن بھی حلوہ پکانا جائز اور حلال ہے، جس کا جب دل چاہے پکا کر کھا لے، لیکن خاص شب براءت میں حلوہ بنانے کا اس قدر اہتمام کرنا (کہ فرائض و واجبات کو ادا کرنے کا اس قدر اہتمام نہیں ہوتا، جتنا حلوہ بنانے کا اہتمام ہوتا ہے) درست نہیں اور بدعت ہے، نہ قرآن میں اس کا ثبوت ہے اور نہ حدیث میں اس بارے میں کوئی روایت ہے، نہ صحابہ کے آثار ہیں اور نہ ہی تابعین اور بزرگان دین کے عمل میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ ہے، لہذا ان فضولیات اور بدعات سے بچنا چاہیے۔
(افادات از اصلاحی خطبات: ج، ۴،ص، ٣٠٧ تا ٣١٨، مکتبہ، میمن اسلامک پبلشرز)

شب براءت میں نوافل کی باجماعت نماز
اس رات میں نوافل کی باجماعت نماز کی ادائیگی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے، جن میں سر فہرست صلاة التسبیح کی باجماعت ادائیگی ہے، اس حوالے سے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شریعت نے عبادت کو جس انداز میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اسے ویسے ہی ادا کرنا چاہیے، شریعت نے نماز پنج گانہ اور جمعہ وعیدین وغیرہ کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نوافل کو انفراداً ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اس لئے کسی نفلی نماز کو (خواہ صلوة التسبیح ہو یا کوئی اور) جماعت سے ادا کرنا منشائے شریعت کے خلاف ہے، اس لیے حضرات فقہاء نے نفل نماز کی جماعت کو (جبکہ مقتدی دو سے زیادہ ہوں) مکروہ لکھا ہے اور خاص راتوں میں اجتماعی نماز ادا کرنے کو بدعت قرار دیا ہے، لہذا شب براءت میں (یا کسی اور خاص رات میں) اجتماعی نوافل ادا کرنا بدعت ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ج، ٣، ص، ٨۵ تا ٨٨، مکتبہ، لدھیانوی)

آتش بازی
نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ اس قدر بابرکت رات میں، جب کہ رحمت خداوندی انتہائی جوش میں ہوتی ہے اور مغفرت کے پروانے عام تقسیم ہورہے ہوتے ہیں، تو ایسی بابرکت گھڑی میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد فضول خرافات میں مصروف ہو کر اس بابرکت رات کو سراپا گناہ اور معصیت بنا لیتی ہے، انہیں خرافات میں سے "آتش بازی" بھی ہے۔

اس حوالے سے حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
"جس طرح اس رات میں نیکی کرنے کا درجہ زیادہ ہے، اسی طرح گناہ کرنے کا جرم بھی زیادہ ہے، اس لیے اس رات میں پٹاخے بجانا، آتش بازی کرنا بہت ہی زیادہ سنگین جرم ہے، اللہ تعالی مسلمانوں کو عقل عطا فرمائے۔
(اصلاحی مواعظ: ج، ۴، ص، ٢٨۵، مکتبہ، لدھیانوی)

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم الشان مہینے کی برکتوں سے خوب مالا مال فرمائے اور خاص طور پر اس بابرکت مہینے کے وسط میں اپنے فضل سے جو نہایت اہم رات عطا فرمائی ہے، (بدعات و خرافات سے بچتے ہوئے) اس مبارک رات کی قدر کرنے اور اس رات میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :3949


فتوی پرنٹ