1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. میت و جنازہ

میت کے ناخن کاٹنے کا حکم

سوال

اگر کسی شخص کے ناخن بڑھے ہوئے ہوں، اور پھر اس کی وفات ہوجائے، تو کیا اس کے ناخنوں کو کاٹنا درست ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کے ناخن بڑھے ہوئے ہوں، اور اس کا انتقال ہوجائے، تو انتقال کے بعد اس کے ناخنوں کو کاٹنا درست نہیں ہے، البتہ اگر خود بخود کوئی ناخن ٹوٹنے لگے، تو اس ناخن کو علیحدہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی البحر الرائق:

(قوله: ولا يسرح شعره ولحيته، ولا يقص ظفره وشعره) ؛ لأنها للزينة، وقد استغنى عنها۔۔۔ولو تكسر ظفر الميت فلا بأس بأن يؤخذ

(ج: 2، ص: 187، ط: دار الکتاب الاسلامی)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5898


فتوی پرنٹ