چار تولے سونے پر زکوۃ

سوال کا متن:

میرے پاس تقریباً چار تولہ سونا ہے، میں اس کی زکاۃ نہیں ادا کرتی، لیکن میرے خیال سے اس کی زکاۃ فرض ہے، کیونکہ اس کی مالیت باون تولے چاندی سے زیادہ ہے، برائے مہربانی آ پ میرے مسئلے کا حل بتائیں۔

جواب کا متن:

صورت مسئولہ میں اگر آپ کی ملکیت میں فقط چار تولہ سونا ہو، اور اس کے ساتھ چاندی، نقد روپیہ یا دیگر کوئی قابلِ زکوۃ چیز نہ ہو، تو چونکہ یہ سونے کا مکمل نصاب نہیں ہے، اس لیے صرف چار تولہ سونے پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر المختار:

نصاب الذہب عشرون مثقالاً فما دون ذٰلک لا زکاۃ فیہ، ولو کان نقصاناً یسیرا۔

(کتاب الزکوۃ، باب زکاۃ المال، ج2، ص295، سعید، کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5745