عید الفطر کی نماز کو بارش کی وجہ سے مؤخر کرنے کا حکم

سوال کا متن:

مفتی صاحب! اگر کبھی عید الفطر کے دن موسلا دھار بارش ہوجائے، اور لوگوں کے لئے عید کی نماز کے لئے آنا دشوار ہوجائے، تو کیا عید کی نماز کو دوسرے دن ادا کرسکتے ہیں؟

جواب کا متن:

بارش یا کسی اور شرعی عذر کی وجہ سے عید الفطر کی نماز کو ایک دن مؤخر کرکے دوسرے دن پڑھنا جائز ہے، البتہ عید الفطر کی نماز تیسرے دن پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، جبکہ عید الاضحیٰ کی نماز عذر کی وجہ سے دو دن مؤخر کرکے تیسرے دن پڑھنا بھی جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

(وتؤخر بعذر) كمطر (إلى الزوال من الغد فقط)

(ج: 2، ص: 176، ط: دار الفکر)

وفی مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی:

وتؤخر" صلاة عيد الفطر "بعذر" كأن غم الهلال وشهدوا بعد الزوال أو صلوها في غيم فطهر أنها كانت بعد الزوال فتؤخر "إلى الغد فقط" لأن الأصل فيها أن لا تقضى كالجمعة إلا أنا تركناه بما روينا من أنه عليه السلام أخرها إلى الغد بعذر۔۔الخ

(ج: 1، ص: 536، ط: دار الکتب العلمیۃ)

وفیہ ایضاً:

"وتؤخر" صلاة عيد الأضحى "بعذر" لنفي الكراهة وبلا عذر مع الكراهة لمخالفة المأثور "إلى ثلاثة أيام"

(ج: 1، ص: 538، ط: دار الکتب العلمیۃ)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5635