1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. میت و جنازہ

نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا حکم

سوال

مفتی صاحب ! اگر ہم راستے میں کسی مسجد یا آفس کے قریب کسی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر جانے کے لیے کھڑے ہوں، اور کچھ دیر بعد نماز جنازہ ہونے کا اعلان ہو جائے، تو ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟ وہاں رک کر شرکت کرنی چاہیے یا جلدی میں ہوں تو جا سکتے ہیں؟

جواب

کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنے کی احادیث میں بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جنازہ پڑھنے والے کو  ایک قیراط کے بقدر اجر ملتا ہے اور ایک قیراط کی مراد خود احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ وہ ’’اُحد‘‘  پہاڑ کے بقدر ہوگا۔

اسی طرح ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں، جن میں سے ایک اس کی وفات پا جانے پر اس کے  نمازہ جنازہ میں شرکت کرنا ہے، اس لیے اگر نماز جنازہ حاضر ہو اور پھر بھی آدمی شرکت نہ کرے تو یہ بڑے ثواب سے محرومی کی بات ہے، لہذا اس ثواب کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے، تو وہ گناہگار نہیں ہوگا، کیونکہ نمازہ جنازہ فرض کفایہ ہے،جس کا مطلب ہے کہ بعض افراد کے نماز جنازہ ادا کرنے سے باقی لوگوں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی صحیح لمسلم:

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من صلى على جنازة فله قيراط، ومن اتبعها حتى توضع في القبر فقيراطان، قال قلت يا أبا هريرة ما القيراط قال مثل أحد.

(حدیث نمبر: ٩٤٥)

وفی حاشية الطحطاوى على مراقي الفلاح:

ﻗﻮﻟﻪ: "ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ" ﺑﺎﻹﺟﻤﺎﻉ ﻓﻴﻜﻔﺮ ﻣﻨﻜﺮﻫﺎ ﻹﻧﻜﺎﺭﻩ اﻹﺟﻤﺎﻉ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺪاﺋﻊ ﻭاﻟﻘﻨﻴﺔ ﻭاﻷﺻﻞ ﻓﻴﻪ ﻗﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﻭﺻﻞ ﻋﻠﻴﻬﻢ[ اﻟﺘﻮﺑﺔ: 103]
ﻭﻗﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺑﺮ ﻭﻓﺎﺟﺮ" ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻰ ﺻﺎﺣﺒﻜﻢ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﺮﺽ ﻋﻴﻦ ﻣﺎ ﺗﺮﻛﻬﺎ ﻭﻷﻥ ﻓﻲ اﻹﻳﺠﺎﺏ ﺃﻱ اﻟﻌﻴﻨﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﺠﻤﻴﻊ اﺳﺘﺤﺎﻟﺔ ﻭﺣﺮﺟﺎ ﻓﺎﻛﺘﻔﻰ ﺑﺎﻟﺒﻌﺾ.

(ج:١، ص:٥٨٠، ط:دارالکتب العلمية )

وفي الشامية:

ﻭﻓﺮﺽ اﻟﻜﻔﺎﻳﺔ: ﻣﻌﻨﺎﻩ ﻓﺮﺽ ﺫﻭ ﻛﻔﺎﻳﺔ: ﺃﻱ ﻳﻜﺘﻔﻰ ﺑﺤﺼﻮﻟﻪ ﻣﻦ ﺃﻱ ﻓﺎﻋﻞ ﻛﺎﻥ ﺗﺄﻣﻞ.

(ج:١،ص: ٥٣٨، ط: دار الفكر )

وفى تقریرات الرافعی علی رد المحتار:

(قول المصنف فرض کفاية) فی السندی ثم انہ قیل کون صلاۃ الجنازۃ فرض کفاية مقید بما اذا لم یكن الناس حاضرین فی مجلس الجنازۃ لانه ذکر فی فتاویٰ قاضی خان وظهیر الدین والمستصفی قال السید الامام ناصر الدین واذا لم یكن الناس حاضرین فی مجلس الجنازۃ و لم يعاينوها فالصلاة عليها فرض کفاية واما عند حضورھم ومشاھدتهم فالصلاۃ واجبة علی کل واحد من الناس باداء نفسه لانها حینئذ فرض عین ولا خلاف فیه اصلاً کذا رأیته بخط بعض الفضلاء ونقله الملا علی قاری رحمه اللہ عن فتوی ابی المعالی وھکذا وجدته بھامش المنح وقد طالعت فی مختار الفتاویٰ ومتانة الروایات وغیرھما من المعتبرات المتعددۃ فلم اجد احداً ذکر انها تصیر فرض عین علی الحاضرین فلتراجع المسئلة وقولہ ﷺ ’’صلّوا علی صاحبکم‘‘ مع حضورہٖ دلیل علی عدم افتراضها علی کل حاضر اھـ ۔ لکن الاولیٰ مراجعة الکتب التی نسب لها القول بالافتراض عند الحضور وقد راجعت فتاویٰ قاضی خان فلم اجد ھذہ المسئلة فيها.

(ج:٢، ص: ١١٩، ط: ایچ ایم سعید )


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5561


فتوی پرنٹ