1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

ماں کے انتقال سے پہلے فوت ہونے والی اولاد کا وراثت میں حصہ نہیں ہے

سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب! میری دادی کا انتقال پانچ سال پہلے ہوا ہے، ان کی اولاد میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، میرے والد صاحب سب سے بڑے تھے، لیکن ان کا انتقال دادی کے انتقال سے ایک سال قبل ہوگیا تھا، اب دادی کی وراثت میں سے میرے والد صاحب کا حصہ ہمیں ملے گا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کی دادی کے انتقال کے وقت جو وارث زندہ تھے، صرف ان کو وراثت میں سے حصہ ملے گا، آپ کے والد کا انتقال چونکہ دادی کی زندگی میں ہوگیا تھا، لہذا دادی کی وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی المؤطا امام مالک:

فإذا لم يعلم أيهما مات قبل صاحبه، لم يرث أحد منهما من صاحبه شيئا. وكان ميراثهما لمن بقي من ورثتهما، يرث كل واحد منهما ورثته من الأحياء.

(ج:3ص:745)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5436


فتوی پرنٹ