1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

رضاعی بھائی کا وراثت میں حصہ نہیں ہے

سوال

میرے والد صاحب کا دو مہینے پہلے انتقال ہو گیا، ان کی جائیداد کی تقسیم کا معاملہ ہے، میرا ایک رضاعی بھائی بھی ہے، کیا اس کا بھی وراثت میں حصہ ہوگا؟

جواب

رضاعت، اسباب وراثت میں سے نہیں ہے، میراث صرف نسبی رشتوں میں جاری ہوتی ہے، اس لیے آپ کے رضاعی بھائی کا محض رضاعت کی بنیاد پر آپ کے والد کی جائیداد میں کوئی شرعی حصہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الشامیۃ:

ویستحق الإرث برحم ونکاح وولاء، والمستحقون للترکۃ عشرۃ أصناف مرتبۃ۔

(الدر المختار مع الشامي / کتاب الفرائض ج:6 ص:760 دار الفکر بیروت)

کذا فی الھندیۃ:

ویستحق الإرث بإحدیٰ خصال ثلاث: بالنسب: وہو القرابۃ، والسبب: وہو الزوجیۃ والولاء۔

(الفتاویٰ الہندیۃ ج:6 ص:447)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5305


فتوی پرنٹ