1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

بہنوں کا وراثت میں اپنا حصہ معاف کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے، اور اس کی اولاد میں مذکر اور مونث دونوں ہوں، اور وہ بہنیں اپنے والد کی طرف سے ملنے والے حصہ سے دستبردار ہوجائیں، تو کیا یہ درست ہے؟ کیا اس صورت میں والد کی جائیداد پر صرف ان کے بھائیوں کا حق ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بہنیں وراثت کی تقسیم سے پہلے اپنے حصہ سے دست بردار ہوئی تھیں، تو ان کا دست بردار ہونا شرعا معتبر نہیں ہے، بلکہ بھائیوں پر لازم ہوگا کہ وہ بہنوں کو ان کے والد کی جائیداد میں سے ان کا مکمل شرعی حصہ دیں، لہذا اگر بہنیں اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے حصہ سے دست بردار ہوئی تھیں، تو اس صورت میں ان کا دست بردار ہونا معتبر ہوگا، اور وہ اپنا حصہ جس کو بھی دینا چاہیں، اپنی مرضی سے دے سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل


کذا فی تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار:

" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".

(ج: 7 ص:505 کتاب الدعوی، ط :سعید)

کذا فی الأشباہ والنظائر:

"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَايَبْطُلُ بِالتَّرْك".

(ص:309- ما یقبل الإسقاط من الحقوق وما لایقبله، ط:قدیمی)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5195


فتوی پرنٹ