1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. وراثت اور وصیت

میراث سے متعلق چند سوالات

سوال

حضرت ! ایک شخص فوت ہوا اور اس کی 1 بیوی، 1 بیٹا اور 5 بیٹیاں ہیں۔ 2 بیٹیاں شادی شدہ اور 3 غیر شادی شدہ ہیں، شادی شدہ بیٹیوں کو جہیز وغیرہ دیا ہے۔ آپ سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: (1) ان صاحب کی جائیداد کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ (2) بڑی بیٹی کو شادی کے وقت ایک پلاٹ دیا تھا، کیا وہ آج كے ریٹ کے مطابق اسکے حصے سے منہا ہوگا؟ (3) شریعت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بیٹیوں کو تھوڑا اور بیٹوں کو زیادہ حصہ دیا جاتا ہے، اگر بیٹیوں کو حصہ پورا نہ دیا جائے تو کیا اس کا وبال فوت شدہ شخص اور زندہ صاحبزادوں دونوں کو ہوگا؟

جواب

(1) مرحوم کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد کو آٹھ (8) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو ایک (1)، بیٹے کو دو (2) اور ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ ملے گا۔

اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں
بیوہ کو % 12.5 فیصد
بیٹے کو %25 فیصد
ہر ایک بیٹی کو %12.5 فیصد ملے گا۔

(2) واضح رہے کہ اگر والد نے مکان بیٹی کو مالک اور قابض بنا کر دیدیا تھا، تو یہ مکان بیٹی کی ملکیت شمار ہوگا، اور بیٹی زندگی میں اس کی تنہا مالکہ ہوگی، اور اگر والد نے اسے مالک اور قابض بناکر نہیں دیا تھا، تو یہ مکان والد کی ملکیت شمار ہوگا اور ان کے انتقال کے بعد ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔


(3) اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو جائیداد میں سے کچھ دینا یا تقسیم کرناچاہے تو یہ" ہبہ" کہلاتا ہے، اور ''ہبہ'' کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ صرف زبانی طور پر نہ کہا گیا ہو، بلکہ عملی طور پر موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے) کو اس چیز کا مکمل قبضہ دیدیا گیا ہو، اگر جائیداد صرف زبانی طور پر ہبہ کی ہو، اور مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار نہ دیا ہو، تو وہ جائیداد بدستور دینے والے کی ملکیت میں رہے گی۔

زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لے، تاکہ بوقتِ ضرورت کام آسکے، اور بقیہ جائیداد اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے، نہ کسی کو محروم کرے، اور نہ ہی بلا وجہ کمی بیشی کرے، البتہ اگر وہ اولاد میں سے کسی کو معقول وجہ (مثلاً: اولاد میں سے کسی کی مالی حالت کمزور ہونے، زیادہ خدمت گزار ہونے، علم دین میں مشغول ہونے، یا کسی اور فضیلت کی وجہ) سے زیادہ دیتا ہے، اور اس سے دوسرے بچوں کو محروم کرنا یا نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو، تو شرعاً وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔

اور اگر والد نے زندگی میں جائیداد تقسیم نہیں کی، بلکہ والد کے انتقال کے بعد بیٹوں نے جائیداد تقسیم کی، تو بیٹوں پر لازم ہے کہ والد کی میراث میں بیٹیوں کو بھی ان کا شرعی حصہ دیں، اگر والد کی میراث میں سے بیٹے بیٹیوں کو ان کا مکمل شرعی حصہ نہ دیں، تو وبال صرف بیٹوں پر آئے گا، مرحوم والد پر نہیں ہوگا۔

_________
دلائل:

قال الله تعالیٰ:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ
فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ
(النساء، الایہ 11،12)


کما فی المصنف لعبد الرزاق:

عن إبراہیم قال: الہبۃ لا تجوز حتی تقبض، والصدقۃ تجوز قبل أن تقبض۔

(باب الہبات، ج:9، ص:107)


وکذا فی المشکوٰۃ المصابیح:

'' وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»''۔

(باب العطایا، ج:1، ص:261، ط: قدیمی)


کذا فی المشکاۃ المصابیح:

عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين».

(ج1، ص254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

وفیہ ایضاً:

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

(ج1، ص266، باب الوصایا، الفصل الثالث، ط: قدیمی)


کما فی الدر مع الرد:

وتتم الہبۃ بالقبض الکامل۔

(کتاب الہبۃ، ج:4/569)


وایضا:

" أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال». رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى. وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا: يكون آثماً في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلاتنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لايعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ".

(ج:4، ص:444، کتاب الوقف،ط: سعید)


کما فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ:

و علی جواب المتأخرین لا بأس بأن یعطی من أولاده من کان متأدباً".

(ج: 14، ص:463، ط: رشیدیہ کوئٹہ)

کذا فی الدر المختار:

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"۔
(ج5، ص 689، سعید،کراچی)

کذا فی الھندیۃ:
’’لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية‘‘.
(ج4، ص378، الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز، ط: رشیدیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :5026


فتوی پرنٹ