1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. کھانے پینے میں حلال و حرام

ہندوؤں کے ساتھ رہن سہن اور کھانا پینا

سوال

مفتی صاحب ! ہمارے کمرے میں ایک ہندو لڑکا رہتا ہے۔ اس ضمن میں چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: (1) اس ہندو کے ساتھ ہمارا رہن سہن کیسا ہونا چاہیے؟ (2) کیا ہم اس ہندو کے ساتھ کھا پی سکتے ہیں؟ (3) جس برتن میں اس نے کھانا یا پانی پیا ہو، اس برتن میں ہم کھا پی سکتے ہیں؟ نیز ہماری پوری میس ہوتی ہے، جس میں تمام برتن عمومی ہوتے ہیں، کیا نارمل دھلائی کے بعد ہم ان برتن میں کھا پی سکتے ہیں؟ براہ کرم تفصیلاً پورا طریقہ کار سمجھا دیں۔

جواب

واضح رہے کہ غیر مسلم اگر مرتد اور اہل حرب میں سے نہ ہو، تو اس کے ساتھ معاملات کرنا اور اس کی غم خواری کرنا اور اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِير۔
[آل عمران:28]

ترجمہ:
مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یار و مددگار نہ بنائیں۔ اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الّا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لیے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو۔ اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے۔ اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

صورت مسئولہ میں آپ کے ساتھ رہنے والے ہندوؤں کے ساتھ کھانے پینے سے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر ہندو کے ہاتھ اور منہ پر ظاہری نجاست نہ لگی ہو اور کھاناحلال ہو، اور برتن بھی پاک ہو، تو ان کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اس پر مداومت اختیار کرنا یعنی اس کی عادت بنالینا مناسب نہیں ہے، البتہ اگر ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے دینی حمیت ختم ہونے کا اندیشہ ہو، تو پھر ایسے کفار سے میل جول رکھنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے سے احتیاط کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک وتعالیٰ:

لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِير۔

[آل عمران:28]

کذا فی الھندیۃ:

سؤر الآدمي طاهر ويدخل في هذا الجنب والحائض والنفساء والكافر إلا سؤر شارب الخمر ومن دمي فوه إذا شرب على فور ذلك فإنه نجس وإن ابتلع ريقه مرارا طهر فمه على الصحيح كذا في السراج الوهاج۔

(الهندية ج1ص23)

کذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:

ذهب الحنفية إلى تقسيم الأسآر إلى أربعة أنواع:
النوع الأول: سور متفق على طهارته وهو سؤر الآدمي بجميع أحواله مسلما كان أو كافرا، صغيرا كان أو كبيرا، ذكرا أو أنثى، طاهرا أو جنبا أو حائضا أو نفساء۔

(الموسوعة الفقہية الكويتية ج:24ص:101)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :4807


فتوی پرنٹ