غیر مسلم ممالک میں پولیس کی نوکری کرنا

سوال کا متن:

مفتی صاحب ! غیر مسلم ممالک میں پولیس کی نوکری کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن:

غیر مسلم ممالک میں محکمہ پولیس کی ملازمت اگر حقوق کے ثابت کرنے، شر وفساد کے دفع کرنے اور چور، ڈاکؤوں سے حفاظت کرنے کے لئے کی جائے، تو یہ نوکری جائز ہے، البتہ اسلام کے خلاف لڑنے والی پولیس یا فوج میں ملازمت کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک و تعالیٰ:

وَتَعَاوَنُوْا عَلٰی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلٰی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ [المائدۃ، رقم الآیۃ: ۲]

کذا فی المبسوط للسرخسی:

ولا تجوز الإجارۃ علی شيء من الغناء والنوح والمزامیر والطبل، وشيء من اللہو؛ لأنہ معصیۃ والاستئجار علی المعصیۃ باطل، فإن بعقد الإجارۃ یستحق تسلیم المعقود علیہ شرعا، ولا یجوز أن یستحق علی المرء فعل بہ یکون عاصیا شرعا۔

(المبسوط للسرخسي، الإجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 37،38/16)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :4675