1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. روزہ

27 رجب اور 15 شعبان کا روزہ

سوال

مفتی صاحب ! رجب اور شعبان میں کونسی تاریخ میں روزہ رکھنا مسنون ہے؟

جواب

(1) رجب کی کسی خاص تاریخ میں روزہ رکھنا فرض، واجب یا سنت نہیں ہے، بلکہ سنت سمجھ کر روزہ رکھنا بدعت ہے، اس لیے کہ ستائیس رجب کے بارے میں جو روایات آئی ہیں، وہ موضوع (من گھڑت) اور ضعیف ہیں، صحیح اور قابل اعتماد نہیں، لہذا ستائیسویں رجب کا روزہ عاشوراء کی طرح مسنون سمجھ کر رکھنا ممنوع ہے، حضرت عمر فاروق ؓ ستائیسویں رجب کا روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
البتہ اگر کوئی نفل کی نیت سے روزہ رکھے تو منع نہیں ہے۔

(2) شعبان میں پندرہویں تاریخ کا روزہ مستحب ہے، ابن ماجہ کی روایت میں اس کا تذکرہ ہے اور یہ روایت ایک راوی کے حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے صرف ضعیف ہے، موضوع (من گھڑت) یا شدید الضعف نہیں ہے، حدیث شریف میں وارد ہے کہ ”شعبان کی پندرہویں شب کو بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہو اور پندرہویں تاریخ کا روزہ رکھو“ پس پندرہویں تاریخ کا روزہ مستحب ہے، اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

کذا فی سنن الترمذی :

ﻋﻦ ﻋﺮﻭﺓ، ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻗﺎﻟﺖ: ﻓﻘﺪﺕ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻴﻠﺔ ﻓﺨﺮﺟﺖ، ﻓﺈﺫا ﻫﻮ ﺑﺎﻟﺒﻘﻴﻊ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﺃﻛﻨﺖ ﺗﺨﺎﻓﻴﻦ ﺃﻥ ﻳﺤﻴﻒ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻚ ﻭﺭﺳﻮﻟﻪ»، ﻗﻠﺖ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﺇﻧﻲ ﻇﻨﻨﺖ ﺃﻧﻚ ﺃﺗﻴﺖ ﺑﻌﺾ ﻧﺴﺎﺋﻚ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻳﻨﺰﻝ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﺇﻟﻰ اﻟﺴﻤﺎء اﻟﺪﻧﻴﺎ، ﻓﻴﻐﻔﺮ ﻷﻛﺜﺮ ﻣﻦ ﻋﺪﺩ ﺷﻌﺮ ﻏﻨﻢ ﻛﻠﺐ» ﻭﻓﻲ اﻟﺒﺎﺏ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ اﻟﺼﺪﻳﻖ، «ﺣﺪﻳﺚ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻻ ﻧﻌﺮﻓﻪ ﺇﻻ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻟﻮﺟﻪ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ اﻟﺤﺠﺎﺝ»، ﻭﺳﻤﻌﺖ ﻣﺤﻤﺪا ﻳﻀﻌﻒ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭﻗﺎﻝ: ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻛﺜﻴﺮ ﻟﻢ ﻳﺴﻤﻊ ﻣﻦ ﻋﺮﻭﺓ، ﻭاﻟﺤﺠﺎﺝ ﺑﻦ ﺃﺭﻃﺎﺓ ﻟﻢ ﻳﺴﻤﻊ ﻣﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻛﺜﻴﺮ۔

(رقم الحدیث : 739، ط : شرکة مطبعة)

وفی تعلیق الشیخ شعیب الارنووط علی مسند الامام احمد :

ﻭﻗﺪ ﻧﻘﻞ اﻟﻘﺎﺳﻤﻲ ﻓﻲ ﻛﺘﺎﺑﻪ "ﺇﺻﻼﺡ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ" ﺻ 100 ﻋﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﺘﻌﺪﻳﻞ ﻭاﻟﺘﺠﺮﻳﺢ "ﺃﻧﻪ ﻟﻴﺲ ﻓﻲ ﻓﻀﻞ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﺣﺪﻳﺚ ﻳﺼﺢ"، ﻭﻫﺬا ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻧﻪ ﻟﻴﺲ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺒﺎﺏ ﺣﺪﻳﺚ ﻳﺼﺢ ﺇﺳﻨﺎﺩﻩ، ﻭﻟﻜﻦ ﺑﻤﺠﻤﻮﻉ ﺗﻠﻚ اﻷﺳﺎﻧﻴﺪ ﻳﻌﺘﻀﺪ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﺘﻘﻮﻯ۔

(ج : 11، ص : 217، ط : موسسة الرسالة)

کذا فی فتاوی دارالعلوم دیوبند : 288/6، ط : مکتبة العلم

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :1177


فتوی پرنٹ