سوال کا متن:
جواب کا متن:
واضح رہے کہ عورت کا شوہر اگر چاند کی پہلی تاریخ کو فوت ہوا ہو، اور عورت حاملہ نہ ہو، تو چاند کے حساب سے چار مہینے دس دن پورے کرے گی، چاہے مہینہ انتیس دن کا ہو یا تیس دن کا ہو، لیکن اگر شوہر چاند کی پہلی تاریخ کو فوت نہیں ہوا، تو ہر مہینہ تیس دن کا شمار کر کے ایک سو تیس دن پورے کرنے ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
وفی القرآن الحکیم:
والَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا۔ (سورة البقرة، ٢٣۴)
کذا فی الشامیة:
في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلية وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين. وعندهما يكمل الأول من الأخير وما بينهما بالأهلة۔ (ج: ٣ ص: ۵٠٩)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی