1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. بدعات و رسومات

محرم الحرام میں پانی پلانا

سوال

محرم الحرام میں پانی پلانا صحیح ہے یا یہ شیعہ حضرات کے ساتھ مشابہت میں آتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ پانی پلانا باعثِ ثواب ہے، لیکن محرم میں اس عقیدے سے پانی پلانا کہ اس سے شہداء کربلا کی پیاس بجھتی ہے، ناجائز ہے، اور اس میں شیعوں کے ساتھ مشابہت بھی ہے، اور انہی دنوں میں پانی پلانے کو عبادت سمجھنا شریعت میں زیادتی کرنا ہے، جو کہ بدعت اور ناجائز ہے، البتہ اگر ان دنوں میں اتفاقاً کوئی پیاسا آجائے، تو اسے پانی پلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

----------------------------------------------------------------
دلائل:
کذا فی سنن أبي داؤد:
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فہو منہم۔
(اللباس / باب في لبس الشہرۃ)

کذا فی صحیح البخاري:
عن عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہٰذا ما لیس منہ فہو رد۔ (الصلح / باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود)

کما فی نفع المفتی والسائل:
نقل فی مطالب المؤمنین عن امامنا ابوحنیفۃؒ انہ لایجوز للتشبہ بالروافض ۔
(ص ، 126، مطبوعہ رحیمیہ دیوبند)

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :2077


فتوی پرنٹ