1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. کھانے پینے میں حلال و حرام

محرم الحرام میں گھر پر آئے ہوئے شربت اور کھانے کا حکم

سوال

اگر کوئی محرم کے دنوں میں کھانے کی کوئی چیز(چاول) گھر پر بھیجے اور خدام وہ چیز وصول کر لے تو اب ان کا کیا کیا جائے، ہمیں بھیجنے والے (ہمسایہ)کی نیت کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ ۱۔کیا گھر میں استعمال کر سکتے ہیں؟ ۲-ملازمین جو گھر میں ہی رہتے ہیں ان کو کھلا سکتے ہیں؟ ۳۔ ایسے ملازم جو کام کے بعد اپنے گھر چلے جاتے ہیں ان کو دے سکتے ہیں ؟ (ان کے گھروں میں چھقٹے بچے بھی ہوتے ہیں، اگر ان کو کھلا دیے جائیں

جواب

محرم الحرام کے خاص دنوں میں کھانا تقسیم کرنے کو لازم سمجھنا اور اس کا التزام کرنا اور اس کو دین کا جزو بنانا بدعت ہے، اس بدعت اور التزام کو ختم کرنے کے لئے ایسا کھانا قبول نہیں کرنا چاہیے، البتہ اگر اس دن کہیں سے کھانا آ گیا اور اس کو کھا لیا تو انشاء اللہ گناہ نہ ہوگا، البتہ یہ بات ذہن نشین رہے، اگر یہ کھانا کسی غیر اللہ کے نام پر یا غیر اللہ کے تقرب حاصل کرنے کے لئے دیا گیا ہو تو اس صورت میں کسی مسلمان کیلئے یہ کھانا حلال نہیں ہے، اب چونکہ یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ کس نے کس نیت سے دیا ہے، کیوں کہ عوام میں جھالت عام ہے اور صحیح عقائد کے علم کا فقدان ہے، اس لیے ایسے کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس مسئلے میں ایک اصول سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ مذکورہ مسئلہ میں اصل مسئلہ اس کھانے کے قبول کرنے کا ہے کہ اسے غیر مذہب کی ترویج و اشاعت کی بنا پر قبول نہیں کرنا چاہیے، اب اگر کسی نے قبول کرلیا مثال کے طور پر گھر میں مستورات یا کسی بچے نے وہ کھانا لاعلمی میں وصول کر لیا تو اس کے کھانے کا حکم وہی ہے، جو ہم پچھے ذکر کر چکے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ملکیت کی تبدیلی سے حکم میں تبدیلی آجاتی ہے، اب چونکہ آپ نے اسے قبول کر لیا ہے اور آپ دوسرے غریب مسلمان کو دے رہے ہیں تو وہ صدقہ سمجھ کر دے رہے ہیں، جو اس کے لئے قبول کرنا جائز ہے اور اس میں غیر مذہب کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ بھی نہیں ہے۔
مزید واضح رہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب یہ واضح ہو کہ یہ چیز غیر اللہ کے نام پر نہیں دی گئی، اگر غیر اللہ کے نام پر وہ چیز دی گئی ہے تو اسے کسی مسلمان کے لیے کھانا حلال نہیں ہے،چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی القرآن الکریم:

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيْرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ

(سورۃ البقرۃ، آیت: 173)

وفی صحیح البخاری:

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد» رواه عبد الله بن جعفر المخرمي، وعبد الواحد بن أبي عون، عن سعد بن إبراهيم

(ج: 3، ص: 184، ط: دار طوق النجاۃ)

وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:

أطلق أصحاب الاتجاه الأول البدعة على كل حادث لم يوجد في الكتاب والسنة، سواء أكان في العبادات أم العادات، وسواء أكان مذموما أم غير مذموم.

(ج: 8، ص: 21، ط: دار السلاسل)

وفی التفسیر الکبیر:

والحجۃ فیہ انھم اذا ذبحوا علی اسم المسیح فقد اھلو بہ لغیر اللہ فواجب ان یحرم وروی عن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قال اذا سمعتم الیھود والنصاری یھلون لغیر اللہ فلا تاکلوا اھ۔

(ج: 3، ص: 23، ط: دار الفکر)

وفی الشامیۃ:

واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك،
ولا سيما في هذه الأعصار وقد بسطه العلامة قاسم في شرح درر البحار، ولقد قال الإمام محمد: لو كانت العوام عبيدي لأعتقتهم وأسقطت ولائي وذلك لأنهم لا يهتدون فالكل بهم يتغيرون.

(ج: 2، ص: 439، ط: دار الفکر)

وفی فتح القدیر:

وتبدل الملك يوجب تبدل العين حكما كما عرف من حديث بريرة من قوله - عليه الصلاة والسلام - «هو عليها صدقة ولنا منها هدية»

(ج: 5، ص: 379، ط: دار الفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :2072


فتوی پرنٹ