1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. احادیث کی تحقیق، تخریج و اسنادی حیثیت

امراض کے متعدی (contagious) ہونے سے متعلق حدیث اور اس کی مختصر تشریح

سوال

مفتی صاحب ! کیا کسی حدیث میں یہ آیا ہے کہ چھوت کی بیماری نہیں ہوتی؟ براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب

جی ہاں! صحیح احادیث میں یہ بات بیان فرمائی گئی ہے کہ امراض مؤثر حقیقی کے طور پر بذات خود متعدی (contagious) نہیں ہوتے ہیں، ان روایات میں سے ایک حدیث اور اس کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے:

٢٢٢٠- حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ - قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا؟ قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟»

(صحیح مسلم: كِتَاب السَّلَامِ/ بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ...إلخ)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری کا لگنا کوئی چیز نہیں اور صفر اور ہامہ کی کوئی اصل نہیں ہے، تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اونٹوں کو کیا ہو جاتا ہے کہ وہ ریت میں ایسے صاف ہوتے ہیں، جیسا کہ ہرن ہو، پھر ایک خارشی اونٹ آتا ہے اور ان کے درمیان چلا جاتا ہے، تو سب اونٹوں کو خارشی کر دیتا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کیا تھا؟

امراض کے متعدی (contagious) ہونے اور نہ ہونے سے متعلق ایک ضروری وضاحت

واضح رہے کہ اصل عقیدے کے طور پر یہ بات ثابت ہے کہ کسی شخص کو جو بھی بیماری لگتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے سے لگتی ہے، اس لیے کوئی بھی بیماری بذات خود مؤثر و متعدی نہیں ہے، زمانہ جاہلیت میں بعض بیماریوں میں لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ جب کوئی تندرست آدمی کسی بیمار شخص کے پاس جاتا ہے، اسے وہ بیماری لگ جاتی ہے، تو مذکورہ بالا حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس باطل عقیدے کی نفی فرمائی ہے، تاہم بعض روایات میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بیماریاں متعدی (contagious) ہو سکتی ہیں، جیسا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے:
"فر من المجذوم فرارک من الأسد".

ترجمہ:
کوڑھ کے مریض سے ایسے بچو، جیسے تم شیر سے اپنے آپ کو بچاتے ہو۔

بظاہر دونوں حدیثوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے، چنانچہ جمہور علمائے امت نے ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ جن احادیث میں متعدی (contagious) امراض کی نفی فرمائی گئی ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی بیماری اور مرض میں یہ ذاتی اثر نہیں ہوتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو جائے، اور جن احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امراض متعدی (contagious) ہو سکتے ہیں، تو وہ ظاہری سبب کے اعتبار سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض امراض میں یہ صفت رکھی ہے کہ وہ دوسرے کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، لیکن سبب حقیقی اور مؤثر اصلی کے طور پر نہیں، اس لیے کبھی کبھی متعدی (contagious) امراض دوسرے کو نہیں لگتے، لہذا نفی سبب حقیقی کی ہے، کہ اگر کسی شخص کو کوئی متعدی (contagious) بیماری دوسرے سے لگے گی، تو وہ سبب کے درجے میں تو ہوگی، لیکن اس بیماری لگنے میں تاثیر اللّٰہ تعالیٰ کے ارادے سے پیدا ہوگی، جیسے سری کے موسم میں ٹھنڈی اشیاء سے اجتناب کیا جاتا ہے کہ وہ بیماری کا سبب بن سکتی ہیں، چنانچہ بعض لوگوں کو ٹھنڈی اشیاء کے استعمال سے بھی بیماری نہیں لگتی ہے اور بعض لوگوں کو بیماری لگ بھی جاتی ہے، سو اسی طرح متعدی بیماریوں (contagious) سے اجتناب کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کوڑھ کے مریض سے دور رہنا چاہیے (اس سے نفرت کیے بغیر) تاکہ وہ مرض سبب نہ بن جائے بیماری لگنے کا۔
اس لئے دونوں قسم کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے۔

(ماخذہ بتصرف یسیر از کشف الباری شرح صحیح البخاری: کتاب الطب، ص: ٥٨٣)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8129


فتوی پرنٹ