1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. نکاح

ویڈیو کال پر نکاح کا حکم

سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرے چند سوالات ہیں : ( 1 ) بالغ لڑکا اور لڑکی نے ویڈیو کال پر نکاح منعقد کیا، نکاح کا طریقہ یہ تھا کہ ویڈیو کال كے ایک طرف اکیلی لڑکی بیٹھی ہے، اس کے پاس کوئی نہیں ہے اور دوسری طرف لڑکا ہے، دو گواہ بھی ہیں، لیکن لڑکی نے ان گواہوں کو اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھا، نہ نکاح کرتے وقت اور نہ ہی پہلے یا بعد میں، اس کو صرف لڑکا ویڈیو کال پر نظر آ رہا تھا۔ لڑکی نے یہ جملے کہے: میں اپنی ذات آپ کے حوالے کرتی ہوں اور میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ جواباً لڑکے نے کہا: میں نے آپ کو اپنے نکاح میں قبول کیا اور لڑکے نے کہا ہاں بھئی ! سن لیا ؟ لڑکی کو صرف گواہوں کی آواز آئی کہ سن لیا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح کرنے سے نکاح منعقد ہوگیا؟ ( 2 ) لڑکا اور لڑکی دونوں ایسی ہی باتیں کرتے رہے اور پِھر جھگڑا ہوا تو لڑکی نے خلع مانگا، لڑکے نے کہا ویڈیو کال پر بولو کہ مجھے آپ سے خلع چاہیے، چنانچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا، لڑکے نے ويڈیو کال پر کہا کہ میں نے تمہیں خلع دیا اور میسیج پر لکھ بھیجا کہ اب تم آزاد ہو، ہمارا نکاح ختم ہوا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، تم سے اب نہ نکاح کرونگا اور نہ تم سے کوئی تعلق رکھونگا۔ اس کے بعد اس نے پِھر منتیں کرکے اس لڑکی سے رُجوع کرنا چاہا، لڑکی مان گئی اور دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوا۔ دوسرے نکاح کا طریقہ یہ تھا کہ لڑکی نے وائس میسیج میں کہا میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اور میں نے اپنی ذات آپ کے حوالے کی۔ لڑکے نے کہا کہ اب میں بمطابق سنت كے نکاح کرونگا، لحاظہ کچھ گھنٹے كے بعد اس کا میسیج آیا کہ ہمارا نکاح بمطابق سنت ہو گیا ہے اور خطبہ بھی ہوا ہے، کل میں مدرسے کے بچوں کو ولیمہ کی دعوت کھلا دونگا۔ کیا اِس نوعیت میں ان دونوں کا نکاح باقی ہے ؟ کیا وہ دونوں آپس میں زوجین کا رشتہ رکھتے ہیں یا نہیں ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمادیں۔ ( 3 ) وہ لڑکا اس لڑکی کو بہت ٹارچر کرنے لگا، مثلاً پہلے اللہ کی قسم اٹھاتا اور ایمان سے کہتا کہ تو یہ کام کر، نہیں تو تجھے ذلیل اور برباد کردونگا، جب لڑکی انکار کرتی تو کہتا کہ اب میں اپنی قسم پوری کرونگا، ورنہ یہ کام تجھے کرنا پڑیگا۔ مثلاً: کہتا تھا کہ اپنے باپ کو گالی دے، اور اس کی ریکارڈنگ بھیج، اپنی ماں کو گلی دے اور اور اس کی ریکارڈنگ بھیج، اور لڑکی کو وقت كے مطابق بات کرنے کو کہتا تھا اور اگر گھر میں وہ نہیں کر پاتی تھی تو اس کوبطور شوہر کہہ کر بد دعائیں دیتا تھا، اور آخر میں لڑکی کو گھر سے بھاگنے کو کہا، لڑکی نے انکار کیا اور گھر میں بتا دیا کہ یہ مسئلہ ہے، گھر والوں نے یہ کہہ کر اس سے رابطہ ختم کروا دیا کہ اس طرح نکاح نہیں ہوتا۔ میرا آخری سوال یہ ہے کہ لڑکی نے خالص دین کو دیکھ کر اس شخص سے نکاح کیا تھا، اور اس شخص نے اس سے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اسکی عزت کا خیال رکھے گا اور عزت سے رخصتی کرائے گا، لیکن رویہ نا قابل برداشت ہوتا چلا گیا اور اس نے بھاگنے كے لیے ٹارچر کرنا شروع کر دیا، اور کہا کہ وہ اِس رشتے کو اب قائم نہیں رکھے گا، صرف لڑکی سے اپنا حساب لینا چاہتا ہے۔ لڑکی کو بہت ندامت ہے، اب وہ اس کے ساتھ رشتہ قائم رکھنا نہیں چاہتی، اور توبہ کرکے نئی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اس ساری تفصیل کے بعد معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ان دونوں کا نکاح ہوا تھا یا نہیں؟ اگر ہوگیا تھا تو طلاق ہوئی یا نہیں؟ کیا لڑکی دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیےعاقدین (لڑکا اور لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں کے ایجاب و قبول کی مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے، اور یہ بھی شرط ہے کہ ایجاب وقبول کو دو ایسے گواہوں نے بلا کسی اشتباہ وتلبیس کے سنا ہو ،جو خود مجلس عقد میں موجود ہوں، تاکہ وہ بوقت ضرورت گواہی دے سکیں، جبکہ ٹیلی فون اور ویڈیو کال پر نکاح میں مجلس کے ایک ہونے کی شرط کے مفقود ہونے کے ساتھ ساتھ تلبیس واشتباہ کے کافی مواقع موجود ہوتے ہیں، اور مختلف مناظر کو مصنوعی طریقے پر ایک دوسرے سے منسلک کرنا بھی ممکن ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں نکاح منعقد نہیں ہوا اورجب نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تو لڑکی دوسری جگہ بغیر طلاق وخلع کے نکاح کرسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

لمافی الدر المختار:

وینعقد بایجاب من احدھما وقبول من الاخر

(ج:۳،ص:۹،ط:دارالفکر)

وفیہ ایضاً:

وشرط حضور شاھدین حرین او حر وحرتین مکلفتین سامعین قولھما معاً الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین۔

(ج:۳،ص:۲۲،ط:دارالفکر)

وفی البحر الرائق:

شرائط الإيجاب والقبول فمنها اتحاد المجلس إذا كان الشخصان حاضرين فلو اختلف المجلس لم ينعقد فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا،

( ج:3، ص:8۹،ط:دارالکتاب الاسلامی)

وفی الھندیة:

ﺭﺟﻞ ﺯﻭﺝ اﺑﻨﺘﻪ ﻣﻦ ﺭﺟﻞ ﻓﻲ ﺑﻴﺖ ﻭﻗﻮﻡ ﻓﻲ ﺑﻴﺖ ﺁﺧﺮ ﻳﺴﻤﻌﻮﻥ ﻭﻟﻢ ﻳﺸﻬﺪﻫﻢ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻟﺒﻴﺖ ﺇﻟﻰ ﺫﻟﻚ اﻟﺒﻴﺖ ﻛﻮﺓ ﺭﺃﻭا اﻷﺏ ﻣﻨﻬﺎ ﺗﻘﺒﻞ ﺷﻬﺎﺩﺗﻬﻢ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺮﻭا اﻷﺏ ﻻ ﺗﻘﺒﻞ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺬﺧﻴﺮﺓ.

(ج:2، ص: 268، ط: دارالفکر )

وفی فتاوى اللجنة الدائمة:
نظرا إلى ما كثر في هذه الأيام من التغرير والخداع، والمهارة في تقليد بعض الناس بعضا في الكلام وإحكام محاكاة غيرهم في الأصوات حتى إن أحدهم يقوى على أن يمثل جماعة من الذكور والإناث صغارا وكبارا، ويحاكيهم في أصواتهم وفي لغاتهم المختلفة محاكاة تلقي في نفس السامع أن المتكلمين أشخاص، وما هو إلا شخص واحد، ونظرا إلى عناية الشريعة الإسلامية بحفظ الفروج والأعراض، والاحتياط لذلك أكثر من الاحتياط لغيرها من عقود المعاملات - رأت اللجنة أنه ينبغي ألا يعتمد في عقود النكاح في الإيجاب والقبول والتوكيل على المحادثات التليفونية؛ تحقيقا لمقاصد الشريعة، ومزيد عناية في حفظ الفروج والأعراض حتى لا يعبث أهل الأهواء ومن تحدثهم أنفسهم بالغش والخداع.

(ج:۱۸،ص:۹۱،ط: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8128


فتوی پرنٹ