1. دار الافتاء الاخلاص کراچی
  2. حج

احرام کی حالت میں چہرے کا پردہ

سوال

مفتی صاحب ! احرام کی حالت میں عورت کے لیے چہرہ کھولے رکھنے کا کیا حکم ہے، کیونکہ چہرہ ڈھکنے سے تو کپڑا چہرہ پر لگے گا، اور چہرہ پر کپڑا لگنا تو منع ہے؟ براہ کرم اس مسئلہ کا حل بتادیں۔

جواب

واضح رہے کہ جس طرح عام حالت میں چہرہ کا پردہ ضروری ہے، اسی طرح حالت احرام میں بھی چہرہ کا پردہ ضروری ہے، تاہم وہ پردہ اس طرح کیا جائے گاکہ کپڑا چہرہ پر نہ لگے۔

حالت احرام میں دونوں احکام پر بیک وقت عمل کرنا ضروری ہے،جو کہ ممکن ہے اور صحابیات کے زمانہ سے اس پر عمل بھی ہوتا چلا آرہا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم حج کے سفر پر اُونٹ پر بیٹھ کر جارہی تھیں، تو راستے میں جب کوئی اجنبی سامنے نہ ہوتا تو اپنے نقاب اُلٹے رہنے دیتیں، اور ہم نے اپنے ماتھے پر ایک لکڑی لگائی ہوئی تھی، جب کوئی قافلہ یا اجنبی مرد سامنے آتا دکھائی دیتا تو ہم اپنا نقاب اس لکڑی پر ڈال دیتیں، تاکہ وہ نقاب چہرے پر نہ لگے، اور جو مرد سامنے آئیں ان کا سامنا نہ ہو۔

مذکورہ حدیث میں چہرے پر نقاب ڈالنے کی تشریح میں مشکوۃ کی مشہورشرح مرقاۃ کے مصنف ملا علی قاریؒ مرقاۃ میں لکھتے ہیں کہ چہرہ پرنقاب ڈالنا اس طرح ہوتا تھا کہ وہ چہرے کی جلد کو مس(Touch) نہیں کرتا تھا۔

لہذا حالت احرام میں دونوں احکام پر بیک وقت عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ عورت حسب سہولت کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرلے کہ پردہ بھی ہوجائے اور احرام کی پابندی پر عمل بھی، مثلاََ: ایسے ہیٹ (hat) کا استعمال جس کے آگے چہرہ ڈھانپنے کے لیے کپڑا لگا ہوا ہو یا گھونگھٹ کو اس طرح گرائے رکھنا کہ پردہ بھی ہو اور کپڑا بھی چہرے پر نہ لگے، اس طرح کرنے سے دونوں حکموں پر عمل ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی القرآن الکریم:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا

(سورۃ الاحزاب، آیت: 59)

وفی سنن ابی داود:

عن مجاهد، عن عائشة، قالت: «كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات، فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها فإذا جاوزونا كشفناه»

(ج: 2، ص: 167، ط: المکتبۃ العصریۃ)


کذا فی المرقاة المفاتيح:

(مَنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا) : بِحَيْثُ لَمْ يَمَسُّ الْجِلْبَابُ بَشَرَةَ الْوَجْهِ.
( مرقاة المفاتيح : 5/ 1852)

کذا فی الموطأ:

وهو محمول على توسيط شيء حاجب بين الوجه وبين الجلباب۔
(الموطأ: ج2، ص260)


لما فی الشامیہ:

(وستر الوجہ)وأطلقہ فشمل المرأۃلما في البحر عن غایۃ البیان من أنہا لا تغطی وجہہا إجماعاً الخأي وإنما تستر وجہہا عن الأجانب بإسدال شئ متجاف لا یمس الوجہ۔

(ج2، ص288، دارالفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


ماخذ :دار الافتاء الاخلاص کراچی
فتوی نمبر :8125


فتوی پرنٹ